تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 96
۹۶ وہ لوگ جو مسیح و مہدی کے ظہور کے ساتھ اپنی حکومت و بادشاہت کا خیال جمائے بیٹھے تھے۔اس نعرۂ جہاد پر سخت جہ بڑ ہوئے اور تحریک احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ہر نا شائستہ اور خلاف اخلاق حربہ استعمال کرنے لگے۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے نہایت دردمند دل کے ساتھ ان کو صلح کی پیش کش کرتے ہوئے فرمایا کہ آڈ اس بات کا معاہدہ کر لیں۔کہ ہم میں سے کوئی فریق تحریر یا تقریرہ یا اشارہ کتابہ سے دوسرے کی عزت پر حملہ نہیں کرے گا۔اور ایک دوسرے سے تہذیب اور شائستگی سے پیش آئے گا۔اور فرمایا :- اگر یہ کاروبار هذا کی طرف سے نہیں ہے تو خود یہ سلسلہ تہاہ ہو جائے گا۔اور اگر خدا کی طرف سے ہے تو کوئی دشمن اس کو تباہ نہیں کر سکتا۔اس لئے محض قلیل جماعت خیال کر کے تحقیر کے در پے رہنا طریق تقولے کے بر خلاف ہے۔یہی تو وقت ہے کہ ہمارے مخالف علماء اپنے اخلاق دکھلائیں۔ورنہ جب یہ احمدی فرقہ دنیا میں چند کروڑ انسانوں میں پھیل جائے گا۔اور ہر ایک طبقہ کے انسان اور بعض ملوک بھی اس میں داخل ہو جائیں گے جیسا کہ خدا کا وعدہ ہے۔تو اس زمانہ میں تو یہ کینہ اور بعض خود بخود لوگوں کے دلوں سے دور ہو جائے گا۔لیکن اُس وقت مخالفت اور مدارات خدا کے لئے نہیں ہوگی آئندہ جس فریق کے ساتھ خدا ہو گا۔وہ خود غالب