تحریک احمدیت اور اس کے نقاد

by Other Authors

Page 21 of 104

تحریک احمدیت اور اس کے نقاد — Page 21

۲۱ شن ولیج کی جانچ پڑتال کر کے دیانتدارانہ رائے قائم کرے۔کیونکہ تنقید کا اصل مقصد یہ ہے کہ تازہ تازہ کلیوں سے خطر و جو ہر پھینچ کر دیدہ زیب میشوں میں بھر دیا جائے۔اور اس کے پہلو میں زہریلے کانٹوں اور خراب پھولوں کا عرق بھی مصفی ظروف میں رکھ دیا جائے تا دیکھتے اور سونگھنے والا خود لطیف و نفیس ننگ وٹو کو کثیف رنگ دیو سے علیحدہ کرلے تنقید کی اس تعریف سے ظاہر ہے کہ اس کے مفہوم میں تعریف اور تنقیص دونوں پہلو شامل ہیں۔اسی لئے ادباء اس بات پر متفق ہیں۔کہ تنقید بڑی ذمہ داری کا کام ہے جسے شرعی انجام دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ایک ناقد کے لئے جہاں تجر علمی ، اور غیر جانبداری کی شرط ہے وہاں علم کلام ، علم اللسان، قواعد روزمره لغات، مصطلحات اور محاورات سے پوری طرح واقف اور باخبر ہوتا بھی ضروری ہے۔ان عمومی خصوصیات کے علاوہ دینی تحریکات پر قلم اٹھانے یا لب کشائی کرنے والے ناقد کو خدا ترس چنین ، منصف متوازن باوقار سنجیدہ وسیع القلب اور بڑے دل گردہ کا مالک ہونا چاہیئے قلم و انسان کی تیزی ، جذباتیت پسندی ، مفاد پرستی ، جنبه داری اور اشتعال انگیزی ، سیاسیات حاضرہ کے لئے خواہ کتنی ہی مفید کیوں نہ ہوں ایک دینی نقاد کے لئے بلا مبالغہ زہر ہلاہل اور رستم قاتل ہیں۔۔میں اپنے اس دعوئی کی تائید میں شہ ہور صاحب کشف و الہام بزرگ حضرت مولانا عبد الله غزه نوسی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک واقعہ بیان