تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 638 of 736

تحدیث نعمت — Page 638

MPA سلئے اسلام چینی نمائیندے پر زور دینے کی ضرورت سے نہیں تھی کہ امریکہ کے اشارے پر چلتے تھے ان کا پاو امریکی انٹی کے پاؤں میں تھا ان کو آمادہ کرنےکا تھا۔امریک کے مدرب اول گوری رائیڈ ائی سیون تھے۔برطانہ ے سر پڑک ڈین اور فرانس کے سفر او ترسید و لیکن امریکی نمائندگان میں سے کشمیر کا مسئلہ فی لیٹین سے متعلق تھا۔میرے ان سبب اصحاب کیساتھ دوستانہ مراسم تھے۔سفر پیپٹن سے جب میں نےپلی بار یہ ذکر کیا انہوں نے فرمایام اپنی وزارت خارجہ سے ہدایت طلب کریں گے مجھ کو اس مسئلے پر اس سے زیادہ کی ی ی ی ی ی ی ی یکی اور بالوں کی تعداد ان کا بے رخی کا لہجہ تھا جس سے خدشہ ہوا کہ وہ پانی سے مانے کے نہیں سر پٹک ڈین نے پوری دلچسپی کا اظہار کا موجودہ صورت حالات کے تعلی دریافت فرمایا اور کہا ہم لندن سے دریافت کریں گے لیکن ہماری رائے میں کوئی دقت پیدا نہیں ہونی چاہیئے۔سر سید نے تو یہ بھی بھی ایک اور مدردی کا اظہار بھی کیا اور تائید کایقین دلایا۔اس حملے پر بھی یہی سوال تھا مسئلہ شمیر کو زیربحث لانے کیلئے مجلس امن کا اجلاس طلب کیا جائے کسی خاص تجویز پر بھی تبادل خیالات کا موقف نہیں قدیمی یرمستقل اراکین ملک کے نمائندگان کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ان سب کی طرف سے اجلاس طلب کے جانے پر آمادگی کا ظاہ ہوا۔چند دن بعد سفر ملین صاحب سے پھر ملاقات ہوئی انہوں نے دریافت کیا روس کا ہدیہ کیا ہوگا۔میں نے کم ادرس کا دویہ کوئی ان کی بات نہیں وہ تو سرے سے اجلاس طلب کئے جانے کے ہی خلاف ہوں گے۔لیکن یہ مسئلہ ضابطے کاہے اگریات اراکین مجلس را سوقت اراکین مجلس کی تعداد گیارہ تھی ابھی اس تعدادمیں اضافہ نہیں ہوا تھا ، اجلاس طلب کرنے کے حق میں وی توکسی متقل رکن کی مخالفت اجلاس طلب کئے جانے کے رستے میں روک نہیں ہوسکتی۔فرمایا یہ ٹھیک ہے لیکن روس اگرپر ایک تجوید کی مخالفت پر مصر رہا تو اجلاس طلب کرنے کا کیا فائدہ میں نے کہا اگر با او اراکین کسی بونی کی تام کریں اور وہ تجویز صرف روس مخالفت کے سب فقط ہو جائے تو ایک تو باقی دنیا پر اس فیتے کی موجودہ صورت اور سہندوستان کی بے باند آشکار ہو جائے گی اور دوسرے بونی کے الفاظ ایسے ہوسکتے ہیں کہ باوجود اس کی مخالفت کے کسی اقدام کی کن اکشن کال کے اس گفتگو کے دو تین روز بعداقوام متحدہ میں سفر لیمپین سے ملاقات ہونے پرمیں نے دریافت کیا کہ وزارت خارجہ سے کوئی الیت حاصل ہوئی ہے کہ نہیں۔انہوں نے کہا وزارت خارجہ کی رائے ہے اور تمہیں اس سے اتفاق ہے کہ مجلس امن کا اجلاس طلب کرنے سے کوئی نتیجہ خر صورت پیدا نہیں ہوگی۔بہترہو کہ دونوں حکومتیں براہ راست آپس میں گفتگو کی صورت پیدا کریں۔میں نے کہا راہ راست گفتگو کے متعلق ہندوستان کا موقف واضح ہو چکا ہے کہ جنگ کی حدبندی کی لاشن کو مناسب اصلاح کے ساتھ مستقل داشتیم ر لیا جائے۔پاکستان کی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں سینے سے ایک کی کایا اور روک سکتے ہو؟ میں سمجھ گیا الوقع کہ دانتوں میں تیل نہیں میں نے اسی دن دفتر پہنچے پر گور ایڈ ائی سیون سے ملاقات کے لئے وقت نانگ اور ساتھی بھی کہلوا دیا کہ سفر پلیٹین بھی طاقات وقت موجود ہوں۔ملاقات دوسری صبح کے ترکی کی ملاقت کیلئے حاضرہونے پر علم ہوا کہ سی امین و ہیں ہوں ان سے باہرکہیں جاناتھالیکن گورنر سٹیون ملاقات کے لئے تیارہیں۔ان کے ساتھ میرا دت سے