تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 609 of 736

تحدیث نعمت — Page 609

4-9 اور یہ نیا ایک آن میشنر کے ختم ہونے کے ساتھ ہی مینڈیٹ بھی ختم ہوگیا در جنوب مغربی افریقہ کی نسبت اقوام متحدہ کو کسی قسم کی نگرانی کا اختیار حاصل نہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین الاقوامی عدالت سے رائے طلب کی کہ جنوب مغربی افریقہ کی نسبت جو مینڈیٹ لیگ میشن نے جنوبی افریقہ کے سپرد کیا تھادہ جاری ہے یانہیںاور اگر جاری ہے تونگا نی کا اختیاری ادارے کو حاصل ہے۔فریقین کے تحریری بیانات اور زبانی بحث پر غور کرنے کے بعد عدالت نے رائے دی کہ منڈیٹ جاری ہے اور نگرانی کا اختیار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو حاصل ہے۔اسمبلی کو چاہیے کہ اس اختیار کے استعمال میں تیہاں تک ہو سکے اس ضابطہ پر مکمل کرے جس پر لیگ آف نیشنز کی کونسل عامل تھی۔جب یہ معاملہ عدالت میں آیا اس وقت میں عدالت کا رکن نہیں تھا۔عدالت کی اس رائے کے اظہار کے بعد جنوبی افریقہ کے موقف اور رویے میں تو کوئی تبدیلی نہ ہوئی لیکن ان کیطرف سے یہ باغدار اسمبلی میں پیش کیا گیا کہ لیگ آف نیشنز کی کونسل تو بالا اتفاق ہدایات جاری کرنے کی مجاز تھی۔اس لئے عدالت کی رائے کے مطابق جنرل اسمبلی بھی بالاتفاق ہی ہدایات جاری کرنے کی مجاز ہے یعنی اگر کسی میں جنوبی افریقہ کو اسمبلی کی کشت سے اختلاف ہو تو اس کے متعلق اسمبلی کوئی ہدایت جاری کرنے کی مجاہ نہیں۔اس پر اسمبلی نے دوبارہ عدالت سے رائے طلب کی کہ جنوب مغربی افریقہ کے متعلق نگرانی کے اختیارات استعمال کرنے میں اسمبلی کسی ضابطے کے مطابق فیصلہ کرنے ی مجاز ہے عینی کی اسکیل لیگ آن بیشتر کی کونسل کے اس قاعدے کی پابند ہے کہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہو یا اقوام متحدہ کے بیان کے فر نمرہ کی پابند ہے جس کے مطابق اہم امور میں املی دو تہائی کثرت سے فیصلہ کر سکتی ہے۔عدالت کی رائے ہ ہوئی کہ ابلی ہر صورت اقوام متحدہ کے میثاق کی پابند ہے اور رائے شماری اسی قاعدے کے مطابق ہوسکتی ہے جو مثاق کے فقرہ نمبر۱۸ میں درج ہے۔یہ رائے عدالت نے ، جولائی ۱۹ ء کو صادر کی۔اس معاملے کی سماعت اور نیلے میں مکیں شامل تھا۔وام متحدہ کی جنل ایل نے جنوب مغرب افلق کی موت کی یا ان کے ایک ایک کی کمر کی تھی اور جنوبی افریقہ کی حکومت کا فرض قرار دیا تھا کہ جنوب مغربی افریقہ کی آبادی کی طرف سے جو عرضداشتیں اس کمیٹی کی توجہ کیلئے پیش ی جائیں د کمیٹی کو بھیج دی جائیں۔جنوبی افریق نے جنوبی ی ی ی ی یک کاران کر دیا تھا اور اشتون کا بھیجا بھی بند کر دیا۔اسپر کمیٹی نے جنوب مغربی افریقہ کے باشندوں میں سے جو کوئی کمیٹی تک پہنچتا اور زبانی عرضات کرنا چاہتا ان کی زبانی عرضداشتوں کو جنوب مغربی افریقہ کے علاقے سے باہر نا شروع کر دیا۔جنوبی افریقہ کی طرف سے عتراف کیا گیا کہ کئی صرف تحریری عرضداشتوں پر غور کرنے کی مجاز ہے۔زبانی عرضداشتوں کی سماعت اور ان پر غور کرے کی مجانہ نہیں۔اس پر سہیلی نے پھر بین الاقوامی عدالت سے رائے طلب کی کہ حالات پیش آمدہ میں جنوب مغربی افریقہ کمیٹی نے بانی عرضداشت سنے کی مجاز ہے یا نہیں۔عدالت نے تحریری بیانات اور زبانی محبت کی سماعت کے بعد رائے دی 1900