تحدیث نعمت — Page 605
۶۰۵ اراکین ہندوستان سے وعدہ کر چکے ہیں اور پھر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابھی کوئی وعدہ نہیں کیا۔کراچی اپس پہنچنے پر ی نے یہ کیفیت وزیر اعظم صاح کی خدمت میں بیان کر دی۔انہوں نے فرمایایہ سب اچھی صورت نکل آئی ہے امید ہے اب انتخاب تک تو تمہیں وزیر خامہ بد در نامنظور ہو گا اور تم بو بون کشید کو وزارت چھوڑنے پر اصرار نہیں کروگے۔سیو کانفرنس میں پاکستان | ستمبر کے شروع میں سیٹو ( 70 S-E-A) کا اجلاس منیلا کی طرف سے نمائندگی میں ہوا۔پاکستان کی طرف سے ورکنگ پارٹی میں آغا ہلالی صاحب اور رشید ابراہیم صاحب شامل ہوئے اور ان دونوں نے اوران کے عملے نےبہت محنت اور تدبیر سے کام کیا۔کانفرنس کے شروع ہونے تک معاہدے کے مسودے میں اکثر وہ امور شامل کر لئے گئے تھے جن پر پاکستان کو اصرار تھا لیکن سے اہم بات جبس کہ پاکستان کو اصرار تماشامل نہیں کی گئی تھی۔پاکستان اسبا پر مصر تھاکہ معاہدے کے فراق ممالک میں سے کسی کے خلاف اگر کسی طرف سے بھی جارحانہ اقدام کیا جائے توباتی فریق ممالک پر فوری ذمہ داری عائد ہو گی کہ ان میں سے ہر ایک اس ملک کی مدد کرے اور اس کے ساتھ شامل ہوکر اس جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرے اور اسے ناکام کرے۔معاہدے کے مسودے میں انا نام کی درصورتیں بیان کیگئی تھیں۔ایک یا جرمانہ اقدام کسی اشتراکی کی طرف سے کیا جائے۔در لالی جارحانہ اقدام تو کسی اور ملک کی طرف سے کیا جائے۔اول الذکر صورت میں تمام فریق ممالک نے ایسے جارحانہ اقدام کو روکتے تعالی کی دانائی کی ذمہ داری کو نوری و پیری میرے برا کیا تھا مرور الدر صورت میں فراق مالکی کے کے پورا کرنا ذمہ داری یہ تھی کہ ان کے نمائندے فور جمع ہوں اور صورت حال کا جائزہ لیکر باہمی مشورےسے طے کریں کہ جارحانہ اقدام کو وکنے اور تعلق فریق ملک کے دفاع کیلئے کی طریق اختیا کا جرمانہ اقدام کو لایز س کے کہ وہ نام کسی اشتراکی مک کی طرفسے ہے اسی غیر اشتراکی کی طرف سے ایک درجہ دیا جاے اور دیگر فراق مالک کی ذمہ داری قرار دی جائے کہ وہ جارحانہ اقدام کی روک تھام اور متعلقہ فریق مل کے دفاع اور حفاظت کیلئے موثر تایر مل میں لائیں۔میں نے مرجان وسر ایس امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اس بار میں فصل گفتگوکی۔انہوں نے فرمایا ہارسے آئین کے مطابق صدر ملک کوئی ایسا معاہدہ سینٹ ( MATE) کی رضامندی کے بغیرنہیں کرسکتے اشتراکی جارحانہ اقدام کے مقابلے کیلئے تو سینٹ (SENATE) نے صدر ملک کو پہلے ہی اختیار دید یا ہواہے اسلئے ہم معاہدے میں یہ ذمہ داری انتے ہے کے ہیں لیکن کسی یاترا کی مک کے جارحانہ اقدام کے تالے کیلئے صدر ملک کو نیٹ کی رضامندی حاصل کرنی آئینی طور پر ضرور ہے اسلئے ہم معاہدے کی رو سے یہ ذمہ داری نہیں سکتے۔صرف تی ذمہ داری لے سکتے ہیں کہ فوری طور ر با کمی مشورہ ہو کر صورت پیش آمدہ کے مقابلے کیئے کیا ادا را می لائی جائیں اور پیر والا مروری سمجھا جائے اس کے لئے سینٹ ( SENATE ) کی رضامندی حاصل کی بجائے۔میں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی رائے میں یہ صورت تکی بخش