تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 603 of 736

تحدیث نعمت — Page 603

سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔" اس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ ان سفراء کے اندلانے میں میری پوزیشن کمزور ہے اور مکن ہے ے علیحدہ ہونا پڑے اگر یہ تاثرت انہوں نے اپنی پنی حکمت کو پہنائے ہیں تو یہ صور پاکستان کے لئے مفر نوسکتی ہے۔پر یہ بھی حقیقت ہے کہ مں قریباً ساڑھے چھ سال کا عرصہ وزارت خارجہ کی ذمہ داریوں کو اداکرنے میں صرف کر چکا ہوں۔ناسب ہو گا کہ یہ ذمہ داریاں اب مضبوط تر کندھوں پر ڈالی جائیں۔ان سب اور دیگر متفقہ اور پر غور کرنے کے بعدمیں اس تیجے پر پہنچا ہوںکہ پاکستان کا مفاد متقاضی ہے کہ میں وزار خارجہ سے علیحدہ ہو جاؤں مجھے پورا یقین ہےکہ مجھے دن نظم اور اپنے رفقاء کا اعتماد حاصل ہے جس کے لئے میں ان کا من ہوں میںنے تو صلہ کیا ہوا کام طور پر میرا آزاداری فیصلہ ہے میں نے اس کمرے میں داخل ہونے سے پہلے کسی فرد کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا نہ کسی سے اس کے متعلق مشورہ کیا ہے۔میں وزیر اعظم صاحب سے اجازت چاہتا ہوں کہ مجھے ۳۰ رجون تک وزارت کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا جائے۔اس ان در ایام امام کو دور کرنے کا موعود یا ایری ایریا اور ان میں کیا بادی یا اس خیال فراتے ہیں۔سب رفقاء نے افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعظم صاحب نے یہ تو بی ظاہر کی کہ میں فیصلے پر پہنچا ہو اس میں تبدیل کی گنجاش ہے۔چودھری محمد علی صابر نے جن کی نشست میرے ساتھ ہی دائیں جانب تھی فرمایا کیا اچھا ہوتا اگر جور میں تمہارا نام کی بین الا قوامی عدالت کی جی کیلئے بھیج دیا جاتا۔میں نے عرض کی آپ پریشان نہ ہوں ان اللہ ھو الزراق زود القوة المتین وزارت خارجہ کا چارج چھوڑنے سے قبل مئی 199 ء کے آخر میں وادی سندھ کے پانی کی تقسیم کے بارے وزیر اعظم کے اصرار پر عالمی بنک سے مں عالمی بنک کے ساتھ کچھ الجھن پیداہوگئی اور عالمہ کا بنیں مذاکرات کے لئے امریکیہ کا سفر ! بائے غور میں واں کا بین کی رائے ہوئی کہ مجھے واشنگٹن جاکر نک کے صدر مسٹر یو جین بلیک اور متعلقہ اف ان کے ساتھ بات چیت کر کے پیداشدہ مشکل کو پاکستان کے نظریے کے مطابق سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔مجھے اسمیں کچھ تامل و وزیر اعظم صاحب مجھےاپنے کمرے میں لے گئے اور دریافت فنایا تمہیں واشنگٹن جانے میں یوں تامل ہے۔ہم جانتے ہیں کہ تمہارے ساتھ بنک کے صدر اور متعلقہ انس ان کے تعلقات بہت خوشگوار میں اوردہ تمہارا بڑا احترام کرتے ہیں۔اس مرحلے پر تمہارا ان سےبات چیت کرنا پاکستان کے لئے بہت مفید روستا ہے۔میں نے عرض کیا مجھے اس خیال سے تامل ہے کہ گومیں نے وزارت سے علیحد گی کا کسی سے ذکر نہیں کیا لکین کا منہ میں کر کیا ہے اورانہ اس کی اطلاع امریکی سفرکو پینی ہوگی اورانہوںنے میری وزارت خاری کو مل کر دیا ہوگا اور وہاں سے یہ خبر کو بھی علم ہو چکی ہوگی۔یہ درست ہے کہ میرے تعلقات انسان بنک کے ساتھ دوستانہ میں اور تبات تک گفتگو اور دلائل کا تعلق ہے میں انہیں پاکستان کے موقف کی صحت اور معقولیت کا قائل کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں لیکن اگر کوئی ایسی نیجید کی یا مشکل میں آگئی جس کے سلجھانے کیلئے مجھے حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے مضبوطی سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تومیں خواہ کس قدر مضبوط موقف اختیار کروں انسان تک میرا کہ میری بات کو ٹا سکتے ہیں یا