تحدیث نعمت — Page 585
۵۸۵ ساتھ یلیفون پرگفتگوبھی نہ کرسکیں۔گورنر صاحب کی اطلاع سے وزیر اعظم صاحب نہایت پریشان ہوئے اور کچھ پرا سیمی کے لیے میں پنے رفقاء سے فرمایا صاحبان اب کہیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟ مجھے تو اس شورش کے بارے میں کچھ گذارش رایانه ها با ما مشوره ای ریت پر گراں ہویا سی غلط فہی کا موجب ہو۔وزیراعظم صاحب کے اس سنت پر ڈاکٹر ایم اے مالک صاحب اور سردار بہادر خان صاحب نے کس قدر ہوش سے کہا کسی حکومت ہے جو ملک میںامن قائم رکھنے کے بھی قابل نہیں۔چودھری محمد علی صاحب اور اشتیاق حسین قریشی صاحب نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ امن عامہ کے قیام کے لئے مضبوط اقدام کی ضرورت ہے۔میاں مشتاق احمد خال گوڑما نی صاحب راست اقدام کی تحریک کے شروع ہے سخت مخالف تے انہوں نے بھی میشور دیا گورز اب کیطرف سے دوبارہ ٹیلیفون پر علت اصرار میں کہاگیا کہ مطابت و قبول کرنے کا فوراً اعلان ہونا چاہئے ورنہ لاہور کا اکثر حصہ آج شام تک نظر آتش و کراکھ کا ڈھیر ہوجائے گا۔اسل حقیقت یہ تھی کہ دہاں صرف احمدیوں کے مکان اور جائدادیں لائی جارہی تھیں۔کا جنید کی رائے ہوئی کہ جب گورنہ صاب اوران کی کابینہ اسقدر بے بس ہو چکے ہیں تومعلوم کرنا چاہیے کہ کیا اور ان حالت کو ضبط میں لا سکتی ہے ؟ سکندر مرزا صاحب کو تو اس وقت وزارت دفاع کے سیکریڑی تھے اور اعلا میں موجود تھے ہدایت دی گئی کہ فوجی اسکی ساس پیناتا کے ذریعہ تنزل اعظم خان صاحب سے معلوم کریں کہ مجھے صورت حالت کیا ہے اور دریافت کریں کہ کیا انہیں امن قائم کرنے میں کسی وقت کے پیش آنے کا اندیہ ہے۔جب سکندر مرزا صاحب کا بینہ کی ہدایت کے مطابق جنرل عظم مناں صاحب سے بات کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو وزیر اعظم صاحب بھی کابینہ کے اجلاس سے چند منٹ کے لئے تشریف ے گئے۔باقی دزراء سکندر مرزا صاحب کی واپسی کے انتظار میں آپس میں بات چیت میں مصروف رہے۔پند رو میں منٹ کے بعد سکندر مرزا صاحب نے واپس آکر اطلاع دی کہ جنرل اعظم خان کہتے ہیں کہ حالات تو ویسے ہی ہیں جیسے گورنہ صاحب کی اطلاع سے ظاہر ہے۔لیکن اگر انہیں ہدایت دیجائے تو فوج ایک گھنٹے کے اندر امن قائم کر سکتی ہے۔سکندر مرزا صاح نے فرمایامیں نے جنرل اعظم سے کہدیا ہے کہ وہ مناسب اقدام کریں۔وزراء سکندر مرزا صاحب کی طلاع سے مطمئن ہوگئے۔اتنے میں وزیر اعظم صاحب کا بینہ کے اجلاس میں واپس آگئے۔اور سکندر مرزا صاحب نے ن کی خدمت میں بھی گذارش کردی کہ انہوں نے جنرل اعظم کو ہدایت دیدی ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے لئے مناسب اقدام کریں۔جیسے تنزل اعظم تعال صاحب نے اندازہ کیا تھا فوج کے شہر میں داخل ہوتے ہی عوام کی مفسدانہ سرگرمیاں سرد پڑگئیں اور حالات بہت جلد قابو میں آگئے۔جمعت احمدیہ کو اس حصے میں ہرقسم کی اذیت کا نہ بنایا گیا، طرح رح کے دکھ دیئے گئے ، مال ، جائیدادیں تلف ہوئی، جانوں پر آنی در افراد کوزندہ نذرآتش کیا گیا، مسکن مداد مجاعت صبر ، تحمل، استقامت اور ثابت قدمی کے اعلی معیار یہ قائم کر ہیں۔