تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 559 of 736

تحدیث نعمت — Page 559

۵۵۹ حامی تھے۔سیکریٹری جنرل ہمیشہ ہر معاملے میں ہمیں مغربی ریاستوں کے موئید ہوا کر تے تھے۔اسٹنٹ سیکر یٹری جنرل اگر چہ امریکن اور آزاد رائے رکھنے والے تھے لیکن طبعاً اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے صاحب صدید در سیکہ بڑی سبزی کے معاون تھے اور رائے شماری کے لئے نام پکارنا اور جواب دہرانا انہی کا کام تھا۔ہر نماندے کا جواب اس سے دہرایا جاتا تھا کہ کسی قسم کی غلط نبی کا امکان نہ رہے۔یہ تینوں اصحاب برائے شماری کے پرچے کا بار بار تجزیہ کر رہے تھے کہ اید کسی طریق سے کہیں سے ایک تائیدی رائے اور مل جائے اور مشکل حل ہو جائے۔لیکن حساب پر ان کا بس نہیں چلتا تھا۔حا ضراراکین کی تعداد ۵۸ تھی جس میں سے ۸ نے رائے دینے سے اجتناب کیا باتی ۵۰ اراکین نے رائے دی جن میں سے ، امخالف تھے منظور کی کے لئے کم ان ۳ ۳ آراء کی ضرورت تختی در موافق آرا ر و ا ت ا ا ا مزید ایک اور کہاں سے آتی ان چار اسب صدر نے نہایت افسردگی کے لہجے میں نتیجے کا اعلان کیاکرشن نیر سوچو کہنا منظور ہوئی اسلئے قرار داد تابع فالج کی گئی ہے۔ہمار ی طرف سے نوشی کا اظہارہ تو انہم تھا ہی لیکن معلوم ہوتا ہے میرے اعصاب پر پہلے چند دنوں ی پریشانی اور اضطراب کا بوجھ تھا۔میری بیعت قابومیں نہ رہی اور میں جوش سے اپنے سامنے کے ڈیک کو زور زور سے متواتر بیٹے لگا۔کرنل عبدالرحیم نے آہستہ سے مجھے کہا چو دھری صاحب کیا کر ر ہے ہیں۔میں نے کیا مغربی طاقتوں کی چھاتی پیٹ رہا ہوں ! یہ کہتے ہی میری طبیعت ضبط میں آگئی اور میں پی اس جذباتی حرکت پر منفعل ہوا۔کیونکہ صاحب صدر میری طرف تیوری پڑھائے دیکھ رہے تھے۔کئی دن تک میرے دونوں ہاتھ س ڈی کو ئی کی وجہ سے متورم رہے۔قرارداد کی تو تی تو یہ تھی ک به میان ما کی دس سال کے عرصے یں لیا کے تقسیم شدہ علاقوں کو ایک متحد آنداد ملک کی حیثیت اختیار کرنے کے لئے تیار کریں۔جب صاحب صدر نے اس شق پر آرا طلبی کی تو میں نے وضاحت پاس کہ تینوں ملکوں سے کونسے تین مک مراد ہیں؟ ہو قرارداد کی صرف دو شقیں ہی منظور ہوئی تھیں اور ان میں صف دو ملکوں یعنی برطانیہ اور فرانس کا ذکر تھا صاحب صدر نے فرمایا کوئی رکن ابھی ترمیم پیش کر دے گا کہ تین کی جگہ دردکا لفظ رکھ دیا جائے۔میں اس امر یہ بھی کچھ کہنے کو تھا کہ ارجنٹائن کے نمائندے ڈاکٹر آر سی نے بولنے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر کہا کہ قرار داد کی بقیہ شقوں پر رائے شماری کرنا غیر ضروری ہے کیونکہ جب ریپولی کی نگرانی اٹلی کے پر دنیس کی جارہی تو اطینی امریکی ریاسیتی باقی سب شقوں کے خلاف رائے دیں گی۔چنانچہ ایپ ہی ہوا۔قرار داد کی بقیہ سب شقیقی رد ہوئیں اور جب پہلی دو شقوں پر مجموعی طور پر رائے شماری ہوئی تو وہ کبھی درد کر دی گئیں۔اور اس طرح جہاں تک بیبیا کا تعلق تھا ہیون سفورزا پیکیٹ کا خاتمہ ہو گیا۔اجلاس ختم ہونے پر میں کرا چی واپس آگیا۔کچھ دنوں بعد اطالوی سفیر متعینہ پاکستان مجھ سے ملنے آئے B