تحدیث نعمت — Page 519
۵۱۹ پہنچا تھا میں ان کی خدمت میں حاضر نہ رہ سکا اور ان کے آخری وقت میں ان کے پاس ہونے کی حسرت دل میں لئے کراچی روانہ ہو گیا۔چند دن بعد وہ فوت ہو گئے۔غفر اللہ لہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شمولیت قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا جیسے کے لئے پہلا پاکستانی وفد میرا اندازہ تھامیر لائن علی اعلیٰ حضرت سے میری نشاء کے مطابق تحریہ حاصل نہیں کر سکے۔تم اب پاکستانی وفد کے ساتھ نیو یارک جانے کی تیاری کر لو۔وفد کے اراکین مرزا ابو الحسن اصفہانی صاحب سفیر پاکستان متعینہ واشنگٹن میرلائق علی صاحب اور پیرزاده عبدالستار صاحب تجویز کئے گئے تھے کچھ دن بعد محترمہ بگم نقدر حسین صاحبہ کو بی درد میں شامل کردیا گیا اور وہ لاہور سے نیو یارک تشریف لے آئیں۔وند کے سیکریٹری محمد ایوب صاحب آئی سی ایس مرحوم تھے نیو یارک میں پاکستانی قونصل جنرل مسرداری شی وند کے رکن تو نہ تھےلیکن ہفتم کے انتظام کے تعلق میں ہیں ان کی مساعی کے نتیجہ میں بہت سہولت میسر آتی رہی۔وفد کا قیام بہار کے ہوٹل میں تھا۔ان دنوں اسمبلی کے اجلاس لانگ می رز میں سی ان نیو یارک کی مانش گاہ کے ہال میں ہوا کرتے تھے اور کیوں اور مجلس امن کے اجلاس لیک سکس میں۔ہوٹل سے فاشنگ پہنچنے میں 40 منٹ صرف ہوتے تھے اور ایک سکس کا فاصلہ پون گھنٹہ میں طے ہوتا تھا۔ہماراوند مختصر اسے ہم نے طے کیا کہ صبح ناشتے پر کارونہ کے کام کے متعلق مشورہ کر لیا کریں گے۔ہمارے دفتری کام کی ساری ذمہ داری محمد ایوب صاحب پر تھی اور اگر چہ انہیں در گردہ کا عارضہ بھی لاحق تھا لیکن وہ اپنے فرائض کو نہایت تندہی اور بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہے۔رات کو دیتیک وہ مصروف رہتے تھے پھر صبح کو بھی انہیں سب سے پہلے تیار ہونا ہوتا تھا۔نیند اور آمرام کے لئے انہیں بہت کم وقت ملتا الیکن وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کس قسم کی تاخیر یا کوتاہ نہیں ہونے دیے تھے مخبراء الاحسن الجزاء - قسیم ملک کی مفاہمتوں میں اک یہ بھی تھی کہ ہندوستان بدستور امام محمد کارکن رہے گا اور پاکستان نیارکن بنے کی درخواست و لیگا، چنانچہ پاکستان کی درخواست پر ملیں اس نے سفارش کی اور اسمبل نے رکنیت کی منظوری دیدی پاکستان اور بین ایک ہی دن اقوام متحدہ کے رکن بنے۔ارجنٹائن نے یہ سوال اٹھایا کہ ہندوستان کی تقسیم می بود و آزاد ریاستی نام ائیں یہ دونوں نئی ریاستیں شمار ہونی چاہئیں اور دونوں کے لئے لازم ہے کہ نئے سرے سے رکنیت کیلئے درخواست دیں لیکن ارجنٹائن کا یہ عذیہ قابل التفات نہ قرار دیا گیا۔۔۔اسمبلی کے اس اجلاس سے پہلے اجلاس میں ایک قرار داد منظور ہو چکی تھی کہ جن مکوں کے سفارتی تعلقات ہسپانیہ کے ساتھ قائم ہیں وہ ان تعلقات کو ختم کر دیں اور آئندہ کوئی ملک ہسپانیہ کی موجودہ حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات ام نہ کرے۔اس اجلاس میں قرارداد پھر یہ غورآئی میں نے اس پر زور مخالفت کی میں نے کہا اول واقوام متحد کا ہرگز یہ منصب نہیں کہ کسی ملک کی حکومت کو اٹھنے کی کوشش کرے اگر کبھی غلطی سے اب اقدام کیا گیا تو اس کا الٹا اثہ