تحدیث نعمت — Page 466
" ہیں۔مجھے خود امراء پر اعتماد نہیں۔جتنا تم اس کی حمایت میں زور دیتے ہو اتنا مر اشک مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔کہ بشخص خطرناک ہے۔میں تمہاری سفارش مانتے کو ہرگز تیار نہیں۔اس کے بعد میرے لئے کوئی چارہ نہ رہا سوائے اس کے کہ میں کھٹی اور اسکی صدارت سے استعفے دیدیا۔چنانچہ میں نے ای ہی کیا۔اس سے بی اے آکر کو تو کوئی فائدہ نہیں پنجے گا لیکن ایسا اور کیا کرتا تھا۔میں نہیں لے کے لئے زیادہ تر اس خیال سے آیا ہو کر ہمیں اطمنان ہو جائے مجھ سے جو کوشش ہوسکی ھی میں نے کی افسوس کہ میری کوشش کارگر نہ ہوئی۔مینے ان سے کہاکہ اگر آپ یہ وضاحت نہ بھی فرماتے تبھی مجھے پورا یان نہ یہ کہ آپکی طرف سکون کی نہیں رہی ہوگی۔اس لئے کا مجھے بھی بھی اتفاق ہوا ہے لیکن اس سے متواتراپ کے متعلق سنا رہا ہوں۔اور جب بھی ہم تینوں اکٹھے ملتے رہے ہیں۔یں آسک کے ساتھ آپکے مخلصانہ تعلقات کا شاہد رہا ہوں میں کرکے لے لیئے آئی میں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اگر وقعہ ہو تو میں نے نیز ذکر ضرور کروں گا کہ آپنے ان کیلئے بات لت پا کرنے کی ہر مکن کوشش کی ہے۔فرما مجھے یہ سکہ بہت بیان ہواہے کہ تم اس سے ملنے کیلئے جانے والے ہو تم سے مل کر اسے بہت خوشی ہوگی۔میری طرف سے جسقدر مناسب کھو اسے کہ دنیا۔خدا کرے کہ وزارت داخلہ تمہارے رستے میں کوئی ادرک پیدا نہ کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ وزارت داخلہ مزد را جازت دیدے گی۔آسکر کی نظر بندی کے دوران ان سے ملاقات آئیل آن میں جانے کی اجازت حاصل کرنے کیلئےمیں نے انڈیا انس کے ذریعے وزارت داخلہ کو کہلوایا۔وہاں سے انڈیا اس کو جواب ملک ڈاکٹر سکری نام کی اس مین کی ملاقاتوں کی منظور شدہ تعداد پوری ہو چکا ہے لیکن وزارت داخلہ نے خاص اجازت نہ جاری کردیا ہے کوبھیجا جارہا ہے۔نظر الہی سفر کا پرانا طے کرلیں ہیں اطلاع کردیں تاکہ ہم کیمپ کے پرنٹنڈنٹ کو اطلاع دے سکیں۔وہ ڈگلس میں سرظفر اللہ کومل جائیں گے اور آنکی سہولت کے مطابق ملاقات کا انتظام کر دیں گے۔فجزاہ اللہ۔میں نے آئیل آف مین جانے کے قصد کانہ کر لیڈی اینڈرسن سے کیا وہ اس پروگرام میں بہت دلچسپی لے رہی تھیں۔ان کے لئے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ جنگ کے دوران میں ایک شخص کئی بندشوں کے با وجود سخت سردی کے موسم میں لندن سے آئیل آف مین کے سفر کا محض اسلئے متمنی ہے کہ اس کا ایک حجر من دوست وہاں غیر ملکی کمی میں نظر بند ہے اور وہ اس کی ملاقات کا آرنہ دمند ہے بار بار مجھ سے کہتیں کیا میں سفر کی دقتوں کا اندازہ ہے ؟ ریلوں میں کھانا نہیں ملنا شدید سردی کا سامنا ہوتا ہے۔روشنی نہیں ہوتی۔پھر جہانہ کے سفر میں اور بھی دوختیں بڑھ جاتی ہیں۔اور خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔پھر تمہاری ملاقات اس قدر نہ حمت برداشت کرنے کے بعد گھنٹہ بھر کیلئے ہوگی تمہیں کیا حاصل ہو گا۔میں نے عرض کیا میں سفر کی دقتوں کا خوب اندازہ کر سکتا ہوں۔آخر دتی سے کراچی ، قاہرہ ، مخرطوم ، جو با اسٹیلے ولی لیوپولڈول، میگوس ، عقره ، نبیل (برازیل) جارج ٹاؤن ( گائینیا میامی ، نیو یارک ، مونٹ ریال ، گینڈر ، گلاسگو ہوتے ہوئے بفضل اللہ خیریت لندن پہنچ گیا ہوں لندن سے فلیٹ و ڈریل پر اور وہاں سے ڈگلس جہاز پر پیچھا کیا مشکل ہے؟ مجھے حاصل یہ ہو گاکہ مں سوا تین سال کے بعد ایک عزیہ دوست سے ملوں گا اور میرے دوست کو اس احساس سے خوشی ہوگی