تحدیث نعمت — Page 408
۴۲۰۸ اور نائٹ ہڑ کے خطاب کے لئے بھی ان کا نام پیش کیا دو نوی سفارشیں منظور ہوئیں۔حکومت ہند میں اپنی میعاد ختم ہونے کے بعد وہ لندن میں ہائی کمشنر کے مشیر قانون ہوئے۔فیڈرل کورٹ کے قیام کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل ہند کا نقر بھی ہو گیا تھا۔کہ بی این متراس منصب پر فائنہ ہوئے۔ہو سمر این این سم کار کے تقریر سے پہلے حکومت سند میں وزیر قانون تھے۔میرے اور ان کے تعلقات بہت دوستانہ تھے۔باوجود ایڈوکیٹ جنرل کی موجودگی کے حکومت ہند و زیر قانون کے محکمے سے بھی قانونی مشورہ طلب کیا کرتی تھی۔جن دنوں میں وزیر قانون تھا ان دنوں دو ایک ایسے کیس قانونی مشورے کیلئے آئے جن کا ذکر پچیسی سے خالی نہ ہو گا۔جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج نے بعض غداروں کی مدد سے سرنگا پٹم کے مقام پر سلطان ٹیپو شہید کی افواج کو پس پاکر کے سلطنت میسور پر اپنا اقتدار قائم کر لیا اور ریاست کا انتظام سابق شہد و حکمران کے سپرد کر دیا تو کمپنی نے جو معاہدہ مہاراجہ کے ساتھ کیا اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ سرکار انگریری کو ریاست کے اندر اپنی کسی چھاؤنی کی توسیع کیلئے پانی پچھاڑٹی قائم کرنے کے لئے زمین کی ضرورت ہوگی تو ریاست مطلوبہ رقبہ بلا معاوضہ سرکار انگریزی کو مہیا کرے گی۔بعد میں جب کبھی ایک موقع پیدا ہوا ریاست کی طرف سے مطالبہ ہوتا رہا کہ اگر چہ کو گی۔ا موقع معاہدے کے مطابق ریاست اپنے حقوق ترک کر دینے کے عوض تو کوئی معاوضہ طلب کرنے کی حقدار نہیں لیکن تیرے اشخاص کے جو حقوق رقبہ مطلوبہ میں ہوں ان کا معاوضہ سرکار انگریزی ادا کرنے کی ذمہ دار ہے۔حکومت ہند کی طرف سے دربار کو ہمیشہ میں جواب ملتان یا کہ معاہدے کی متعلقہ دفعہ کی صحیح تی سی ہے کہ ایسی صورت میں تیرے اشخاص کو جو معاوضہ قابل ادائیگی ہو اس کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی ریاست پر ہے۔چنانچہ ریاست اس ' ** کے مطاب یہ معارض ادا کرتی رہی لیکن ریاست نے بھی اس تغیر کی صحت و تسلیم نہ کیا اور انا احتجاج اس تغیر کے خلاف قائم رکھا۔آخری بار یہ سوال لارڈ کرزن کے عہد میںزیر غور آیا۔پولٹیکل سیکریڑی صاحب نے تفصیل نوٹ لکھا اور جانبین کے دلائل کا خلاصہ درج کرنے کے بعد اپنی رائے درج کی حسبی کا آخری فقرہ یہ تھا:۔< IN SHORT THOUGH THere Is SoMETHING TO BE SAID ON THE OTHER SIDE I AM OF THE VIEW THAT THE LANGUAGE OF THE ARTICLE Favours Our Stand" مسل جب وائسرائے لارڈ کرزن کی خدمت میں پیش ہوئی تو انہوں نے سرخ سیاہی میں حسب ذیل حکم ثبت فرمایا۔"I AGREE, EXCEPT THAT THERE IS NOTHINg To Be SAID ON THE OTHER SIDE " اہی موقعہ پیش آنے پر ریاست کی طرف سے پھر وہی سوال اٹھایا گیا۔جب سیل قانونی مشورے کیلئے