تحدیث نعمت — Page 399
۳۹۹ الطف میرے دلی پہنچنے سے قبل والدہ صاحبہ والدہ استدالی سے فرما چکی تھیں کہ جب قادیان کے جاؤ گے تو مجھے البیلیر ی چلی منزل میں رکھنا اوپر کی منزل پر میرے اپنے کرے میں لے جانا اورمجھے فلاں مقام پر سل دینا، اب پھر مجھے ای رایا، اور والا انا امی نے عرض کی کہ جو جگہ نے مل کئے جو نیک و و و و کان نہیں اور پورا پردہ بھی نہیں کرا کر فرمایا بہت ھی ہے اور پردہ بھی ہے تم نے اچھی طرح س کا اندازہ نہیں کی۔اتنے میں سو اس میں صاحب بھی آگئے انہوں نے ڈاکٹر لطیف صاحت کے ساتھ مشورہ کرکے کچھ اور میکے تو نہ کئے۔میں نے ڈاکٹریا سے الگ دریافت کیا کہ اگر علاج کے لحاظ سے والدہ صاحبہ کا ر ہی رہنا ضروری ہو تو پارہ نہیں لیکن اگر علاج کے آخری مراحل ختم ہوگے ہوں تو آپ مجھے بتادی تاکہ میں کی یہ خواہش بھی پوری کرنے کی کوشش کردی اور انہیں قادیان کے جاؤں۔انہوں نے کہا کہ ایک تو کسی نیکے کے نتیجے میں دل کی حالت کی اصلاح نہیں ہوئی لیکن ہم ایک دو اور ٹیکے لگانا چاہتے ہیں تین کا نتیجہ یوں گھنٹے تک معلوم ہوسکے گا اس وقت ہم بتا سکیں گے کہ کیا صورت ہے۔یہ وقفہ گذر جانے کے بعد پانچے بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ کسی سکے کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا۔اب علاج کے سب مراحل ختم ہو چکے ہیں اور د کی یہ حالت ہے کہ اندازہ ہے کہ آدھ گھنٹ یا پون گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کرسکے گا۔یہ سنکر میں والدہ صاحبہ کے پاس گیا اور کہا اب میں آپ کو قادیان سے چلتا ہوں۔بہت خوش ہوئیں اور مجھے دعا دی ہم نے اسی وقت تیاری شروع کردی اور شام کی گاڑی سے ہم سب قاریان روانہ ہوگئے۔چودھری بیراحمد صاحب اور شیخ اعجاز احمد صاحب بھی ساتھ گئے۔طبی لحاظ سے تو اسقدر مہلت لما موجب تیر تھا لیکن اللہ علی نے کی یہ خواہش بھی پوری کر دی، آہستہ آہستہ مزدوری بڑھتی گئی اور کس وقت کچھ بھینی بھی ہوجاتی تھی لیکن جو رات بھر قائم رہا۔ابجے کے قریب عزی اسدالله خال کو اور مجھے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا "جاؤ بیٹیا اب سو جاؤ یہ آخری کلمہ تھا جو اپنی مرضی سے خود بخود اس پیارے منہ سے نکلا، ڈاکٹر اجنہ آپکے تھے علاج بند ہو چکا تھا۔روح اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کری تھی لیکن ماں کی مامت کو اس وقت بھی نہ کر بنی کہ میرے بیٹوں کے آرام میں خلل نہ آئے تھوڑی دیر کے بعد جب میں اکیلا ہی ان کے پاس تھا تومیں نے بلایا جواب دیا بھوپتر۔میں نے کہا آپ نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔فرمایا میں نے۔۔دوسروں کے ساتھ بھی کوئی بات نہیں کی۔میں نے کہا دوس سے تو صرف بیٹے ہی ہیں اور میرے اور آپ کے درمیان نو عشق کا رشتہ تھا۔فرمایا ہاں۔اس رات عجیب کیفیت تھی طبی لحاظ سے روح اور قسم کا تو ختم ہو چکا ہونا چاہیئے تھا لیکن روح اپنے خالق کے سامنے سجدہ میں پڑی ہوئی عرض کر رہی تھی کہ آپ کی رحمت سے بعید نہیں کہ آپ اس جوڑ کے ائم کرنے کاحکم فرمائیں جب تک آپ کی یہ عاجز اور ناتوان بندی اس سرزمین میں پہنچ جائے جو آپ کے ایک محبوب کی جائے قیام ہونے کی وجہ سے آپ کے انوار اور رحمت کی مہبط ہے۔گاڑی تیز چل رہی تھی اور ہر لحظہ میں قادیان سے