تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 373 of 736

تحدیث نعمت — Page 373

۳۷۳ فیصلے کی ذمہ داری کسی اور کی طرف منتقل کر دی جائے۔تمہارے چارج لینے کے وقت سے میں نے دیکھا ہے کہ کا تم نودہ ایک نتیجے پر پہنچتے ہو اور صفائی سے اسے بیان کرتے ہو اور اس کے متعلق ذمہ داری لیتے ہو۔مجھے اس سے بہت اطمینانی ہوا ہے۔اچھا پھر ملیں گے۔مجھے ان کے ساتھ چار سال کام کرنے کا موقعہ ہوا یا ر ہا ہاہا آپس میں اختلاف بھی ہوا۔بہت لوگ ان کے الفاظ کی نا ملائمت کے شاکی تھے مجھے کبھی ان سے یہ شکوہ پیدا نہیں ہوا۔ہمارے اختلافات بہت طلبہ بات چیت سے ہموار ہو جایا کرتے تھے۔وہ پنی بات کہنے کے بعد بہت جلد مناسب تصفیے کی طرف مائل ہو جانے تھے۔جب میں نے چارج یا گندم کی درآمد پر محصول عاید تھا جس کے دو سخت مخالف تھے اس محصول کے متعلق پر ال غورہ ہوتا کہ جاری رہے یا ہٹا دیا جائے۔زمیندار طبقے کی طرف سے بہت خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ محصول مہا دینے سے باہر سے سنتا غلہ آنا شروع ہو گا اور گندم کی قیمت ملک میں اتنی گر جائے گی کہ زمیندار طبقہ کو مصبیت کا سامنا ہو گا۔سب حالات کا جائزہ لینے کے بعد میری رائے ہوئی کہ آئندہ سال یہ محصول تجاری رہنا چاہیئے۔میں نے نسل پراپنی رائے لکھی اور مسل وزیر خزانہ کے سامنے رکھی۔میرا نوٹ پڑھ کر مسکرائے اور فوراً لم اٹھا کر لکھ مجھے شدید اختلف ہے لیکن میں ہر ایک سے لڑائی مول لینا نہیں چاہتا اسنے نا چار اپنی رضامندی دنیا ہوں۔جب اپنی میعاد ختم کر کے انگلستان چلے گئے تو بھی ہمارے دوستانہ تعلقات قائم رہے۔وہ ہندوستان کے آئینی اور سیاسی مستقبل میں بہت دلچسپی لیتے رہے۔مجھے چارج ملئے ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ وائسرائے کی کونسل کے ایک اجلاس کے ایجنڈے میں قلمدانوں کی تقسیم کا مسلہ درج ہو کہ پھر وہی قضیہ سامنے آگیا۔میں اس رائے سے ملا۔انہوں نے دریافت فرمایا اب تمہاری کیا رائے ہے۔میں نے عرض کیا رہی ہو تو میر ھی تھی بلکہ اس سے بھی مضبوط تھے۔اب تو میں چارج ہے چکا ہوں۔اب اگر میرے قلمدان کو تراش کر نصف سے کم کر دیا جائے توبھی سمجھا جائے گا کہ میں اپنی ذمہ داری کو سنبھالنے میں پورا نہیں اترا۔وائسرائے۔تمہیں معلوم ہے تو میں رخصت یہ جانیوالا ہے۔اس نے نہ درہ دیا ہے کہ اس کے جانے سے پہلے اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ واپسی پر کونے محلے اس کے پرد ہوں گے۔پھر سرکار کہتا ہے۔اس کے پاس کام لنا کم ہے کہ اس کا اکثر وقت فارغ رہتا ہے۔وہ ناول پڑھتے پڑھتے اکتا گیا ہے۔اسے کچھ زائد کام منا چاہیئے۔ظفر اللہ خان۔میں آپ کو وقت میں نہیں ڈالنا چاہتا۔اتنے عرصے میں کچھ بوجھ تو پ کا ہلکا ہو گیا ہے سر توزن بھر چلے گئے ہیں۔اور گرگ اب کس تبدیلی کے خواں نہیں سکا اور اگر واقعہ میں کام کی کمی کی شکایت ہے