تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 325 of 736

تحدیث نعمت — Page 325

اہوانی انس کی آشفتگی اس نامہ کی وجہ سے تھی۔پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے روبرو شہادتیں اشتر کہ کمیٹی کے رو بہ ہندوستان سے بھی گواہ پیش ہوئے اور انگلستان سے بھی۔بعض گواہان انفرادی حیثیت میں پیش ہوئے اور بعض جماعتی نمائندوں کی حیثیت میں کچھ گواہان قرطاس یض کی تجاویہ کی تائید یں تھے اور کچھ مخالفت میں۔سر مائیکل اورڈوائر اور ان کے ہم خیالوں نے قرطاس ابین کے خلاف انگلستان میں ایک محاذ قائم کر رکھا تھا اور وہ مسٹر یہ بل کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔چنانچہ سرمائیکل اپنے چند رفقاء سمیت کمیٹی کے روبرو شہادت دینے کیلئے تشریف لائے اور سر کو پھل بھی بہ نفس نفیس شہادت دینے آئے سر جان ٹامسن نے جو دہلی کے چیف کمشزرہ چکے تھے قرطاس ابی کی تائید میں یک انجمن قائم کی اور خود اس کے وائس چیرمین نے کین اس انجمن کی طرف سے کمیٹی کے روبرو کوئی شہادت پیش نہ ہوئی۔اسکی سرگرمی رائے عامہ کی تائید حاصل کرنے تک محدو دری سندوستان سے ایک وفد پیش ہوا جس کے لیڈر مہاراشٹر کے ایک معزی برہمن تھے۔وہ ہندوستان کی آزادی کے تو امی تھے لیکن ان کا مطالبہ تا کہ آزاد ہندوستان کی پارلیمنٹ کو سی ایسے قانون کے بنانے کا اختیار نہ ہوتومذہب پر اثر اندان وجوان پر جرح کے دوران میں سر تیج بہادر سپرد اور مٹر بیکار نے بہت کوشش کی کہ انہیں قائل کر سکیں کہ قانون سازی کے اختیارات پر ایسی حدبندی ناقابل عمل ثابت ہوگی۔لیکن وہ اپنی بات پر مصر ہے۔آخر مسٹر جس کا رنے دق ہو کر پوچھا آپ مذہب کے اتنے حامی ہیں تو آپ یہ تو تسلیم کریں گے کہ آپ کے مذہب کے درد سے سمندر پارہ کا سفر روحانی نجات کو خطرے میں ڈالتا ہے۔انہوں نے فرمایا میں یہ تسلیم کرتا ہوں۔مسٹر بیکار نے پوچھا، پھر آپ نے مذہب کی تعلیم کے خلاف یہ حرکت کیوں کی ؟ انہوں نے جواب دیا۔میں نے اپنی روح کی یہودی کو اس لئے خطرے میں ڈالنا منظور کیا کہ میں اپنے کروڑوں ہم جنسوں کی ارواح کی بہبودی کا تحفظ کر سکوں۔یہ نقرہ انہوں نے ایسے ہوش اور اخلاص کے ساتھ کہا کہ کانفرض کے اراکین نے بی اختہ انہیں خراج تحسین پیش کیا ! مشترکہ کمیٹی کے سامنے مسرحہ پھل کی شہادت | اس میں شک نہیں کہ جو اصحاب کمیٹی کے رو بہ و شہادت دینے کیلئے تشریف لائے ان میں سے موثر ترین شخصیت مٹر یہ پل کی تھی۔ان کی شہادت چار دن جاری رہی۔مسٹر جو پل فراس ابعین کی پر خونیں اور اس سارے منصوبے کے سوفیصدی مخالف تھے۔ان پر سوالات کے درمیان وزیر چند سرتیج بہادر پردہ مٹر جیکار ، سرسری سنگھ کاور وغیرہم سب جتنی کرکے تھک گئے۔لیکن مسٹر چپہ چپل اپنے موقف سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوئے مسٹر چھ پھل اپنی سابقہ تقریروں میں ہندوستان کو نو آبادیات کا درجہ دیئے جانے کی حمایت کر چکے تھے جب انہیں ان کے وہ سابقہ اعلانات یاد دلائے جاتے تو فرماتے کو آبائیات کے درجے کا تو مں اب بھی موتیہ ہوں لیکن نو آبادیات کا درجہ تو ہندوستان حاصل کر چکا ہے۔ہندوستان نے معاہدہ ورسائے پر دستخط کئے ، ہندوستان لیگ آن نیشنز کا رکن ہے۔یہ نو آبادیات کا درجہ ہی تو ہے۔لیکن درجہ اور بات ہے اور فور آبادی کے اختیارات اور بات !