تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 267 of 736

تحدیث نعمت — Page 267

جائے کیونکہ اس کی یہ تعبیر کی جاسکتی ہے کہ میں وزارت کی خواہش یا امید کی وجہ سے رک گیا ہوں۔اگر میں چلا جاوں تو ملک فیروز خان نون کے لئے میدان خالی ہو جائے گا۔اور ممکن ہے پارٹی کے مسلم اراکین ان کے تقریر پر رضامند ہو جائیں۔گورنر صاحب نے فرمایا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے جاؤ کہ اگرمیں بالآخر میں فیصلہ کروں کہ تمہیں ملک اور قوم کی خدمت کی خاطر وزارت کی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے اور میں بذریعہ نا ر اطلاع دوں تو تم عدن سے واپس آجاؤ گے۔میں نے عرض کیا کہ اگر آپ پورے غور کے بعد اسی فیصلے پر پہنچیں تو تعمیل ارشاد کروں گا ملکین ایک گذارش کرنا چاہتا ہوں کہاب کی بار تعلم وغیرہ کے محکمہ جات کا قلمدان پھر سے مسلمان وزیر کے سپرد ہونا چاہیے فرمایا یہ بات میرے ذہن میں رہے گی۔اسی سر پر می سر سکندر حیات خاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور نہ صحت کے ساتھ تجربات ہوئی انکی خدمت میں گذارش کردی اور کہا کہ گورنر صاحب آپ سے ضرور مشورہ کریں گے (سردار صاحب شاہ سے میانی سرفصل حسین صاحب کی جگہ گویہ نہ کونسل کے رکن عاملہ تھے ، آپ انہیں یقین دلائیں کہ می گول میز کانفرنس میں کام کرنے کا متمنی ہوئی اور وزارت کا ہر گنہ خواہشمند نہیں اور یہ صورت پیدا نہ ہونے دیں کہ وہ مجھے عدن سے واپس طلب فرمائیں سردار صاحت سے رخصت ہو کہ میں ملک فیرونہ خانصاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے سب ماجرا بیان کر کے گذارش کی کہ میرا ندازہ ہے کہ گورستہ صاحب آپ کی کو وزارت کی پیش کش کریں گے آپ مزور ان سے کہیں کہ آپ کو تعلیم وغیرہ کے محکمہ جات کا قلمدان پر کیا جائے۔یہ اربھی پارٹی کے سلم اراکین کی دلجوئی کا موجب ہو گا ملک صاحب نے فرمایا ارے بھائی تم لوگوں کو اصرار ہے تو میں یہ بھی کہ دونگا۔لیکن بیا موجودہ قلمدان لوکل سیلفی گرفت) - بڑے مزے کا ہے۔پہلی گول میز کانفرنس | لندن پہنچ کر میں نے ایک فلیٹ کرایہ پر لے لی۔میرے چھوٹے بھائی چودھری اسد اللہ خاں صاحب اس وقت لندن میں بیرسٹری کے سب امتحان ختم کر چکے تھے اور پریٹی کی سند کے انتظار میں تھے۔میرے کہنے پر وہ میرے ساتھ آٹھرے لیکن میری غرض اس سے پوری نہ ہوئی۔مجھے تمام دن کا نفرنش میں حاضری دنیا ہوتی شام کو کچھ فرصت میسر آئی کو بعض دفعہ شام کو بھی کسی دعوت یا تقریب میں جانا ہوتا۔انہیں شام کے وقت اپنے احباب سے ملنا ہوتا تھا۔نتیجہ یہ کہ جو شام مجھے گھر پہ گزارنی ہوتی وہ اکیلے ہی گزرتی۔اپنی مصر فوت کے لحاظ سے یہ مجھ پر کچھ درد بھر نہ تھا۔لیکن دور انھیں ایسی آئیں کہ مجھے تیز بنجارہ ہو گیا۔میں جانتا تھا یہ میرا پیرانا نیق ملیریا ہے۔اور کونین کے استعمال سے اکی اصلاح ہو جائے گی اسلئے مجھے چنداں پریث فی نہیں تھی لیکن ایسی حالت میں تنہائی مجھ پہ گراں تھی اسلئے میں نے عزیز اسد اللہ خاں سے کہا کوئی ایک مکان تلاش کریں جہاں اور لوگ بھی رہتے ہوں تاکہ ان کی عدم موجودگی میں مجھے بالکل تنہا نہ رہنا پڑے۔چند دن بعد ہم ۲۳ ہیتھ فیلڈ گارڈنز میں منتقل ہو گئے