تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 253 of 736

تحدیث نعمت — Page 253

۲۵۳ علیہ مان بھاگتے ہوئے اس کے پاس سے گذرے ان میں سے ایک نے اپنا نیلے رنگ کا ہتہ بند کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔اس نے انہیں شناخت کر لیا۔آپ پولیس کے تیار کر وہ نقشہ موقعہ پر نظر ڈالیں۔اس میں اس مقام پر نشان ہے یہاں گواہ نے اپنی بیوی کی پہنچ پکار سنتی اور اس مقام پر بھی نشان ہے جہاں گواہ کہتا ہے کہ ملزمان بھاگتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے۔لیکن نقشے کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گواہ پہلے مقام سے جلد ترگھر پہنچنا چاہتا اور نزدیک ترین رستے سے گھر آتا تو دوسرے مقام سے اس کا گذر ممکن نہیں تھا۔وہاں سے گذرنے کے لئے اسے چکر کاٹ کر آنا پڑتا تھا تیرے رات اندھیری تھی بھاگتے ہوئے شخص کی شناخت ہو سکتی تھی نہ رنگدار کپڑے کا رنگ شناخت ہو سکتا تھا۔گواہ کاکہنا کہ الا ملزم نے اپنا نیلے رنگ کا تہ بند کندھے پر ڈالا ہوا تھا ثابت کرتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے مسٹر جیٹس ہرلین۔اس ملک میں یہ رواج ہے کہ گواہ ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔خصوصاً جرح کے دوران میں اگر گواہ نے نہ بند کا رنگ بجرح میں بتایا ہے تو یہ امر قابل التفات نہیں اگر اپنے پہلے بیان میں بتایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ظفر اللہ خاں۔تہ بند کے رنگ والی بات اس نے پہلے بیان میں کہی ہے اور بیان کے اول حصہ میں کہی ہے مریٹس ہیرلین۔تو پھر گواہ دروغ گو ہے۔وکیل استغاثہ کو سننے کے بعد جج صاحب نے اپنا فیصلہ لکھوا یا اور میری تین معروضات کی بنا ئیہ انہیں بری قرار دیا۔عدالت سے باہر نکلنے پر چودھری فضل داد صاحب موکل کی تلاش میں گئے دیکھا کہ عدالت کے کمرے سے کچھ فاصلے پر گھاس کے فرش پر دہ نیک بزرگ نیا و مافیہا سے بے خبر سجدے میں پڑے ہوئے کمالی میں کی درگاہ میں رحم کی التجا میں مصروف ہیں۔پچودھری صاحب نے ان کے شانے کو بلا کر کہا اٹھے ؟ انہوں نے اپنا سرزمین سے اٹھایا اور دریافت کیا کیا ہوا ؟ منشی فضلداد صاحب نے کہا اللہ تعالی نے رحم فرمایا ہے لڑکے بری ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا الحمد للہ۔مسٹر جسٹس آغا سیدر | سٹریٹس آغا سیدہ کا وطیرہ اس قسم کے مقدمات میں اس کے برعکس ہوتا تھا۔ہوا وغیرہ کے الزامات کو وہ عورت کے بیان کی بنا پر ہی ثابت شدہ قرار دیتے تھے۔اور کسی تائیدی شہادت کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ایسے جرائم کی سزا میں بھی سختی روا رکھتے تھے۔عموماً ایادی سزا کا نوٹس جاری کر کے مزائی بھابھی دیتے تھے اور ساتھ کوڑوں کی سزا بھی شامل کر دیتے تھے۔البتہ جہاں عورت کی بدچلنی کا سوال ہونا تو سزا دینے میں بہت نرمی کرتے تھے۔ڈیرہ غازی خان کے ضلع کے ایک گاؤں کے باہر ایک کاشتکار کی رہائش آبپاشی کے کنوئیں پر بھی ایک رات اس کی نیند کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کی ہو ہی اپنی چارپائی پر نہیں۔تلاش کرنے پر اسے اپنے آشنا