تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 183 of 736

تحدیث نعمت — Page 183

تو کچھ نہ کہا آگے چلدیا۔لیکن دل میں حیران ہوا کہ ان کی نیت تو ہمدردی کی تھی لیکن عملاً میرے نہایت قیمتی پانچ منٹ ضائع کئے۔جب میں ریلوے کے پل پر پہنچا توپ کی پڑھائی متیزی سے چڑھنے کی کوشش میں میرا پسینہ بہنا شروع ہو گیا یہاں تک کہ میرے سر سے پینے کے قطرے بارش کی طرح گرنے لگے۔پل گذر کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا که غروب آفتاب میں ابھی کچھ وقفہ ہے اور میں اب مکان کے قریب پہنچ رہا ہوں۔فوج یا پولیس کا پہرہ کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔گڑھی شاہو سے گزر کر میں چودھری شہاب الدین صاحب کی رہائش گاہ اگمتانہ کے عقب میں کھیتوں میں سے ہو لیا اور اپنے مکان پر پہنچ گیا۔عین اس وقت والد صاحب نے مغرب کی نمانہ کی امامت شروع کی تھی۔جلد نوکر کے میں نمازہ میں شامل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔والدہ بہت پریشان ہو رہی تھیں۔میرے خیریت سے پہنچنے سے انہیں بہت اطمینان ہوا۔مارشل لا کے ہندوستانیوں کی مارشل لا کے ماتحت ایک حکم یہ بھاری ہوا کہ سب ہندوستانی تذلیل کرنے والے احکام اپنی موٹریں اوریہ گالیاں مارشل لا کے محکمے کے سپرد کردیں بھی ایک امتیازی حکم تھا۔اور تمیز کی نباء افسر اور رعایا نہیں تھی۔اگر محض حاکم اور محکوم میں تمیز کی جاتی تو اس علم میں پھر بھی سختی کا پہلو تو قائم کر متالیکن تذلیل اور تحقیر کا پہلو اتنا نمایاں نہ ہوتا۔یہ حکم بھی صرف ہندوستانیوں پر عادی تھا۔یوسین اور اینگلو انڈین اس سے مستثنیٰ تھے۔مثلاً ایک ہندوستانی ڈپٹی کمشنر یا کشت و مجبور تھا کہ پنی موٹر یا اپنی گاڑی حوالہ کر دے، اور کرائے کے تانگے پر دفتر جائے ملکین اس کے دفتر کا اینگلو انڈین سپر نٹنٹ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جہاں چاہتا سما سکتا تھا۔سر شادی کا لال ہو ان دنوں چیف کورٹ کے بچے تھے اور بعد میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوئے اپنی موٹر گاڑی میں بیٹھ کہ مارشل لا کے افسر علی کر نل جانسن کے دفتر میں گئے جو پنجاب کلب میں قائم کیا گیا تھا اور کرنل سائن سے کہا میں عدالت اعلیٰ کا جج ہوں اور مجھے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے موٹر کی ضرورت ہے مجھے اس حکم سے متنی کیا جائے۔کریل جانسن نے کہا مجھے کسی کی ضرورت سے غرض نہیں میرا مقصد امن کا قیام ہے۔اس غرض کے حصول کے لئے پیش آمدہ حالات میں ضروری ہے کہ سب موٹر گاڑیاں اور گھوڑا گاڑیاں حوالہ کی جائیں۔آپ اپنی گاڑی لے آئے ہیں اب اسے حوالہ کر دیں۔سرشادی لال صاحب نے کہا بہت اچھا میں عدالت میں پہنچ کر گاڑی بھیج دوں گا۔کرنل جانسن نے کہا گاڑی تواب نہیں رہتے گی آپ جیسے چاہیں عدالت پہلے جائیں۔ہمارے پاس بھی ایک پہیوں پر حرکت کرنے والی سواری مفتی جو قانو نا گاڑی کی تعریف میں آتی تھی۔ہم نے سائیں سے کہہ دیا اسے نے جاؤ اور سوائے کردو۔اسے یہ گاڑہ میں شہر کے اندر واٹر ورکس کے تالاب