تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 182 of 736

تحدیث نعمت — Page 182

(AF کی حالت میں آرہے تھے۔عورتیں ، مرد ، بچے ، بوڑھے خالی ہاتھ اور گھر یلو سامان اٹھائے عجیب پریشانی کی کیفیت میں پہلے آتے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ امرت میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔اور لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ایک صاحب نے جو تم کم کیپر آکر ہے تھے مجھے پہچان لیا اور بڑی ہمدردی سے نہایت الحاج کے ساتھ کہا۔برائے ندا آگے مت جاؤ امرتسر میں کل فوج نے بڑی بے رحمی سے گولی چلا کر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اور اب شہریوں پر ہر قسم کا ظلم توڑا جارہا ہے۔ذرا ذرا سی بات پر کوڑے لگتے ہیں اور دھڑا دھر گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔میں نے کہا مجھے بہر صورت لاہور پہنچنا ہے اور امرتسر سے گزرنے کے بغیر چارہ نہیں۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور سفر جاری رکھا۔امرتسر پہنچے کمر ہم سیدھے ریلوے اسٹیشن پر گئے شہر کے اندر جانے پر پابندی تھی اور ہمیں نشہر کے اندر داخل ہوتے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ لاہور کوئی گاڑی نہیں بارہ ہی کیونکہ امرتسر اور لاہور کے درمیان بھی سہیل کی لائن توڑ دی گئی ہے۔یہاں سے بھی مسافر نم ہم پر لاہور جارہے تھے میں بھی ایک ٹم ٹم پر سوارہ ہو گیا اور سواریوں کی تعداد پوری ہونے پر ہم روانہ ہو گئے۔رستے میں ایک مقام پر کھورے کو سستانے کے لئے چند منٹ بھرے پینے کے لئے پانی میسر آگیا۔وہی بعد شکر پی لیا۔صبح ناشتے کے بعد یہی چند گھونٹ معلق سے اترے تھے۔پانچ بجے شالامامہ پہنچے یہاں پولیس نے روک دیا کہ لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو چکا ہے اور باہر سے آنے والوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں۔میں نے کہا کہ میری لہ تائش لاہورہ میں ہے میں باہر سے آنے والا نہیں۔پولیس افسر نے کہا ئم تم کو تو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تم چاہو تو پیدل پہلے جاؤ لیکن کچھ بجے سے کرفیو کا عمل شروع ہو جائے گا اور یہ جو شخص اپنے گھر سے باہر پایا جائے گا اسے کوڑے لگیں گے۔میرے ساتھ کوئی نہ زیادہ سامان تو تھا نہیں فقط ایک ہلکا سا بیگ تھا۔اور ہاتھ میں چھڑی تھی۔اس وقت مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ سول اسٹیشن کرفیو کی حدود سے باہر ہے۔یہ سہولت ضرور تھی کہ شالامارہ سے آتے ہوئے ۲۶ ڈیوس روڈ ریلوے پل سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا پھر بھی یہ پریشانی تھی کہ تین چار میل کا فاصلہ بہت جلد طے کرنا لازم ہے۔میں با غبان پورہ سے کچھ آگے نکلا تھا کہ ایک صاحب نے جوشہر کی جانب سے اپنے تانگے کو بہت تیز چلاتے ہوئے آرہے تھے مجھے بلند آواز سے ٹھہر ٹھہر کہ کہ دو کا اور اپنے تانگے کوبھی روکا۔میں نے خیال کیا شاید مری حالت سے متاثر ہو کہ مجھے تانگے پیر مٹھا کہ اپنے ہاں باغبانپورسے لے جانا چاہتے ہیں کہ رات ہمارے ہاں سبر کر لو صحیح لا ہو ر پہلے جانا لیکن انہوں نے بد حواسی میں فقط اتنا کہا تم پاگل ہوئے ہو اس وقت کہاں جار ہے ہو ؟ آگے مت جاؤ۔لاہور میں تو بڑی سختی ہو رہی ہے۔یہیں کہیں ٹھکانا تلاش کرو۔نہیں نے ان سے