تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 181 of 736

تحدیث نعمت — Page 181

۔۔قانون کے ماتحت موجب تعزیہ تھا۔لیکن علاوہ مجرموں کی تعزیہ کے جنرل ڈائر نے حکم دیا کہ جس بازار میں یہ جرم ہوا تھا وہاں سے جو ہندوستانی گذرے وہ ہاتھ پاؤں پہ ر سینگتا ہوا گزرے۔یہ حکم اس بازار کے رہنے والوں پر بھی عادی تھا جو اپنے مکانوں سے نکلتے وقت اور واپس آتے وقت اس حکم کی پابندی پر مجبورہ تھے اور اس ذلت اور رسوائی کو برداشت کرنے کے بغیر انہیں کوئی چارہ نہیں تھا۔برطانوی استبداد سے ہندوستان کو آنها دی تو ۲۸ سال بعد حاصل ہوئی لیکن اس میں شک نہیں کہ ر کے مارشل لاء اور خصوصاً جنرل ڈائمہ کی وحشیانہ کاروائیوں نے ہندوستان سے بر طانوی راج کی صف لپیٹ دی۔مارشل لا کے دوران جو نہایت ذلت آمیز امتیانہ گورے اور کالے کے درمیان کیا گیا وہ ہندوستانی دلوں پر ایک نہ مٹنے والا نقش چھوڑ گیا۔بیشک سنٹر کمشن نے اپنی رپورٹ اور سفارشتوں سے ہندوستانیوں کے نہ خمی اورہ آریہ درہ دلوں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔اب ہندوستانی برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے اور نباہنے کے لئے تیار تو تھے لیکن آزادی اور مساوات کی سطح پہ نہ کہ غلامی در محکومیت کی بناء پر۔میں سما را پریل کو قادیان حاضر ہوا۔اور اسی شام شالہ واپس آگیا لیکن اسٹیشن پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ بالہ اور امرتسر کے درمیان ریلوے لائن توڑ دی گئی ہے۔اور ریل گاڑی کا سلسلہ آمد و رفت بند ہو گیا ہے۔میں اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر حیران کھڑا تھا کہ حسن اتفاق سے مکر می شیخ فضل الحق صاحب تشریف لے آئے اور کیفیت معلوم کر کے ریلوے کے ایک افسر سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے امرتسہ پہنچانے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں۔انہوں نے فرمایا اگر رات کے دوران میں انہیں فوری طور پر کہیں جانا نہ پڑ گیا تو صبح ہوتے ہی وہ ٹرالی پہ امرتسر جائیں گے اور مجھے ساتھ لیتے جائیں گے۔مجھے فجر کے وقت اسٹیشن پر پہنچ جانے کو کہا۔شیخ صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اندریں حالات آپ میرے مکان پر ملیں اور وہیں قیام کریں قبیح جو صورت ہوگی اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔پیشیخ صاحب کے دولت کدے پر میں نے بہت آرام سے رات بسر کی۔فجر کی نمازہ کے وقت انہوں نے فرمایا کہ آدھی رات کے قریب ان ریلوے افسر صاحب کا پیغام آیا تھا کہ انہیں فوری طور پر روانہ ہونا پڑا ہے اسلئے افسوس کرتے ہیں کہ آپ کو ساتھ نہیں لے جا سکے۔اب آپ آرام سے تیار ہوں۔ناشتے کے بعد ا اسٹیشن پر جاکر صورت حال معلوم کریں گے۔اسٹیشن پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ریل گاڑی تو ابھی تک بند ہے لیکن مسافر کم کم پر مرتہ جارہے ہیں۔میں بھی ایک تم پر سوار ہو گیا۔ہم صبح 9 بجے کے قریب بٹالہ سے روانہ ہوئے ۱۲ بجے دوپہر کے لگ بھگ ویہ کا سے گزرے۔امرتہ کی جانب سے لوگ کثیر تعداد میں پیدل اور ہر قسم کی سواری پر تیراکی --