تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 91 of 736

تحدیث نعمت — Page 91

ملتا ہے اور چھوٹے قصبات اور دیہات میں تو کھانے کے ساتھ دودھ اور کستی پانی کی طرح بیٹے جاتے ہیں اور ان کی قیمت نہیں لی جاتی۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ دو پہر کے کھانے کا دن بھر میں کوئی موقعہ نہیں ہو گا۔جھیل کے جہانہ پر سجنے سیر ہو کر ناشتہ کر لیا تھا۔اب دوپہر کے کھانے کی جگہ کڑوے سیاہ قہوے اور باسی میٹی پہ اکتفا کیا۔جب ہم دوسرے RA PID کے قریب پہنچے تو ہمارے ملاح نے دوخانی کشتی والی رہتی کھولدی اور ہماری کشتی پانی کے بہاؤ کے ساتھ RAPID کی طرف بڑھنا شروع ہوئی اور جلد ہی اس کی تیز نا ہموار سطح پر محور قص ہوگئی یہ RAPID نوبیل لمبا تھا اور یہاں بھی وہی کیفیت رہی ہو پہلے RAPID میں پیش آئی تھی۔یہ نومیل کا فاصلہ بہت جلد طے ہو گیا اور RAPID سے نکلنے پر پھر مار کی کشتی ایک دخانی کشتی کے ساتھ باندھ دیگئی۔آخر کار ہم تیسرے اور آخری RAPID میں داخل ہو گئے۔اس کے اختتام پر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ دریا چاروں طرف سے پہاڑ کے اندر گھر کر اس کے نیچے غائب ہو جاتا ہے۔کشتی بہت تیزی سے پہاڑ کی طرف بڑھتی گئی۔یوں محسوس ہونے لگا کہ پہاڑ کے ساتھ ٹکراؤ میں کوئی مضر نہیں۔لیکا یک تمارے بائیں ہاتھ کے کنا رہے اور پہاڑ کے درمیان ایک پاٹ نظر آیا اورکشتی جو پہلے ہی مجنونانہ رقص کر رہی تھی نہایت تیزی سے چار کھانے لگی۔بعض مسافروں کی تو بے اختیار چیخین نکل گئیں۔یہیں یوں محسوس ہوا کہ طلاح کے پھپو کی کسی حرکت کے نتیجے میں دونوں کنائے اور سامنے کا پہاڑ تیزی سے کشتی کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔یہ کیفیت چند کا سیکنڈر ہی اور دفعتاً گنا ہے اور پہاڑ سب غائب ہو گئے اورکشی ہموار سطح پر کسی قدر تیزی سے بڑھتی معلوم ہوئی۔یہاں دریا کا یا پھر جوڑا ہو گیا تھا۔اور کہا ہے اگر چہ اب بھی اونچے تھے لیکن کچھ فاصلے پہ ہونے کی وجہ سے دریا ان میں گھرا ہوا نہیں تھا۔اور پھر علی چٹانوں کی جگہ مٹی نے لے لی تھی کشتی ایک درخانی جہانہ کی طرف بڑھ رہی تھی جو کنارے کے قریب لنگر ڈالے تھا۔ہمارا اندازہ تھاکہ ہم اس بہانہ پر آگیا لوگ جائیں گے لیکن ہماری کشتی کے مسافروں کی حرکات اور دفعتنا گفتگو کا سلسلہ تیز ہو جانے سے ہم نے قیاس کیا کہ کوئی خلاف توقع بات ہوگئی ہے۔ہمارے تاجر مسفر نے بتایا کہ ہم دیر سے پہنچے ہیں۔اکیا بورگ جانیوالا جہانہ جا چکا ہے۔اور یہ بہانہ جو کھڑا ہے کل صبح جائیگا ہم نے دریافت کیا کہ رات بسر کرنے کا کوئی سامان ہو گا۔اس نے کہا قریب ہی ایک فارم میں سنگہ مل بجائے گی۔اتنے میں کشتی کنارے آلگی اور ہم اپنے سامان سمیت اتنہ آئے۔ہمارے ہمسفر نے ادھرادھر نگہ دوڑائی اور ہمیں ذرا ٹھہر د کہہ کردہ پھرتی سے دائیں طرف لیکے اور بندہ گھر جا کہ ایک سہ پہیہ ریسٹری کو جو الٹی پڑی ہوئی تھی سیدھا کیا اور اسے دھکیلتے ہوئے لے آئے۔کوئی لفظ کہے بغیر اپنا اور ہمارے دونوں