تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 71 of 736

تحدیث نعمت — Page 71

تیرہ ہوئے ہو منحوس نمبر ہے ! میں نے کہا میں نے تو ایک سال کے دوران اس مکان میں رہنے ہوئے پانچ امتحان پاس کئے ہیں۔چار بار کے پہلے حصے کے اور ایک انٹر میڈیٹ ایل ایل بی کا۔جب بھی امتحان میں بیٹھتا ہوں فضل اللہ پاس ہوتا رہا ہوں۔ایک بار بھی فیل نہیں ہوا، کہنے لگے تم ان باتوں کو مانتے نہیں ہو اسلئے تم پر اثر نہیں ہوتا۔میں نے کہا تو آپ بھی نہ مانا کریں۔اس پر سر ہلا کر خاموش ہو گئے لیکن مکان بدل لیا تا ہم ہماری رفاقت جاری رہی۔سوئٹزر لینڈ اور شمالی اٹلی کی سیر سی کی ایسٹر کی تعطیلات میں میں ٹامس لک کے ایک زائرین کے قافلہ کے ہمراہ سوئٹر نہ لینڈ اور شمالی اٹلی کی سیر کو گیا۔لندن سے ایک شام روانہ ہو کر ہم دوسری صبح B ASLE پہنچے۔یہاں ناشتہ کیا ہو انگلستان کے ناشتے سے ہلکا تھا۔صرف قہوہ ، رولز ، مکھن ،ماشہد یا مرتبہ۔یہاں کے رولنہ انگلستان کے ٹوسٹ کی نسبت زیادہ لذیذ تھے۔ناشتے کے بعد ہم شہر کی سیر کو گئے ، بلندی سے دریائے لائین کا نظارہ بہت بھلا معلوم دیتا تھا اور پانی بہت شفاف تھا۔جنودا - مرد پیر کو ہم پھر ریل پر سوار ہو گئے اور جنودا (اٹلی ) گئے یہ شہر کرسٹوفر کولمبس کا مولد ہے۔ریل کے اسٹیشن کے باہر کو لمبس کا ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے۔یہاں ہوٹل میں ہمارا قیام ہوا۔دوسرے دن شہر کے قابل دید مقامات دیکھے۔قصر ابیض، قصر احمر ، ولانا ڈی نیگری ، میدان مقدس یعنی قبرستان جس میں سنگ مرمر کی بہت سی خوبصورت اور قابل دید یاد گاریں ہیں۔یہ شہر آگئی کی مشہور بندر گاہ بھی ہے۔بعد میں مجھے موٹر پر اس شہر سے گذرنے کا اتفاق تو ہو ا ہے لیکن پھر بیاں ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ملا۔پیزا - جنودا میں دورات اور ایک دن ٹھہرنے کے بعد ہم پھر روانہ ہوئے اور پیرا ٹھہرے۔یہ بہت پیرانا شہر ہے۔صرف گر جا اور LEANING TOWER قابل دید آثار ہیں۔اس ٹاور کے متعلق اب خدشہ ہے کہ گرنے کو ہے۔اسے مضبوط کرنے کی بجو نہیں ہو رہی ہیں۔مجھے بعد میں کبھی میرا جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔فلور نیں۔پیزا سے ہم اسی دو سپر فلور نیں پہنچ گئے اور ہوٹل میٹرو پول میں قیام ہوا۔یہ شہر شائقینِ فنونِ لطیفہ کیلئے بہشت سے کم نہیں۔فلور میں میڈیچی سخاندان کی فیاضی اور عظمت کی یاد گار ہے یہ خاندان صرافے کے پیشے سے DUCAL رہتے تک پہنچا۔فلوری نہیں کی حکومت سنبھالی۔اس کے افراد کلیسا کے سردارہ ہوئے اور بعض ان میں سے پاپائے اعظم کے تخت پر بھی ممکن ہوئے۔شاہی خاندانوں