تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 57 of 736

تحدیث نعمت — Page 57

بہانہ کے بینڈ والوں نے جب دیکھا کہ اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو مینڈ پر NEARER MY COD" TO THE E کی دھن بجانا شروع کر دی اور اسے بجاتے بجاتے جہاز کے ساتھ ہی سمندر کی تہ میں پہلے گئے۔ٹائی ٹینک کے عرق ہونے کی خبر پہنچتے ہی اور منھ میں ایک کہرام مچ گیا۔اور متھ سے پورٹ سمتھ تک کے سب شہروں قصبوں اور دیہات میں بیشمار گھروں میں ماتم کی صفین بچھ گئیں۔اتوار کے دن سب گریتوں میں اسی موضوع پر وعظ ہوئے۔یہ حادثہ ایسا المناک تھا کہ سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ہمارے لندن واپس آنے کے بعد بھی چند دن میں تذکرہ رہا کرتا تھا میس پارسنتر نے ذکر کیا کہ جب ان کے والد نے یہ خبرسنی تو کہا ہیں یہ دعوی کہ ایسا بہا کبھی رن نہیں ہوسکتا یہ تو خدا کوآریانا ہوا بھلا خلا بھی آزمایا جاسکتا ہے۔بعد میں کئ بار مجھے اور تمھے جانے کا اتفاق ہوا ہے۔گو پھر کبھی سو ہو میں ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہوا۔اکثر چائن ہوٹل میں ٹھہرتا رہا ہوں جو PER سے کچھ ہٹ کر بلندی پر واقع ہے جس کے کھانے کے کمرے اور لونج سے سمندر کا نظارہ بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔اکتوبر سائر کے آخرہ یا نومبر کے شروع میں میں دہلی میں نھا کہ ایک دن بیٹھے بیٹھے یہ نظارہ ایک جھلک کی طرح ذہین سے گذرا گویا عزیز انور احمد اور میں پائن ہوٹل کے لانچ میں سمندر کی جانب کھڑکی کے پاس بیٹھے ہیں اور دوپہر کے کھانے کے بعد قہوہ پی رہے ہیں اور سمندر کا نظارہ بھی کر رہے ہیں۔سمندر بالکل ساکن معلوم ہوتا ہے۔سورج چمک رہا ہے۔اور سورج کی روشنی کا عکس سمندر پر بہت خوشنما معلوم ہوتا ہے۔میں نے عزیز انور احمد سے اس عجیب افعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ جنگ کا زمانہ ہے اور بظاہر کوئی ایسا امکان تو نظر نہیں آتا کہ مستقبل قریب میں ہمیں اس ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہو لیکن اللہ تعالٰی ہر شے پر قادیر ہے۔قریباً ایک ماہ بعد یعنی سر دسمبر کو عین ایسا ہی ہوا۔ہم دونوں پائن ہوٹل بور منھ میں پینے کے بعد لونی میں سمندر کی جانب کھڑکی کے پاس بیٹھے قہوہ پی سے تھے اور سمندر کا نظارہ کر رہے تھے۔سمندر بالکل ساکن نظر آنا تھا۔سورج چمک رہا تھا اور روشنی کا عکس پانی پر بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔نسبحان اللہ العلی العظیم۔مسٹر جان لیوٹیس چیز سے پہلی ملاقات | مجھے ابھی لندن پہنچے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ اوائل اکتوبر 191 ء میں ایک سہ پہر جب موسلادھار بارش ہو رہی تھی مکان کے باہر والی گھنٹی بجی الفات سے میں نے ہی دروازہ کھولا۔ایک صاحب جو عمر میں مجھ سے ۵ - ۶ سال بڑے معلوم ہوتے تھے بائیکل سنبھالے کھڑے تھے۔مجھ سے پوچھا مسٹر خان گھر پر ہیں ؟ میں نے کہا میں ہی ہوں آپ اندر تشریف لا ہے ان کا نام جان لیو میں جلینز تھا اور وہ ویزلین کالج رچمنڈ میں میتھوڈ ٹیسٹ فرقے کا پادری بنے کیلئے