تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 54 of 736

تحدیث نعمت — Page 54

۵۴ ساحل اس میں بہت سے نشان ہیں۔چنانچہ میں نے یہ خواب ایک نوٹ بک میں دوستی کر لیا۔چو دھری شمشاد علی خاں صاحب کا خط مجھے ہر دوسرے ہفتے با قاعدہ آیا کرتا تھا۔اب کچھ پریشانی کے ساتھ ان کے خط کا انتظار رہنے لگا۔جب ان کا 14 جنوری کے بعد کا لکھا ہو انخط مجھے مل گیا ان دنوں لاہور سے لندن ڈاک ۱۷ - ۱۷ دن میں پہنچتی تھی تو کچھ اطمینان ہوا۔بور نمنتھر کی سیر | اپریل لشراء میں ایسٹر کی تعطیات میں مسٹ باؤ اور میں اور من گئے ہو جنوبی نمنتھ جو ساحل پہ ایک بہت خوشنما شہر ہے۔لندن سے بور منھ تک قریب ایک سو میل کا فاصلہ ہے۔لندن سے روانہ ہونے سے پہلے ہم نے اپنے ٹھہرنے کا انتظام ایک بورڈنگ ہاؤس میں کر لیا تھا جس کا نام سلوری تھا اور جو ویسٹ کلف گارڈنر میں واقعہ تھا۔دو بڑے مکانوں کو اندر سے ملا کر ایک مکان بنا لیا گیا تھا۔قریب چالیس افراد کے ٹھہرنے کی گنجائش تھی۔مجھے اور مسٹر بارش کو ایک بڑا کمرہ مل گیا تھا تو خاصہ فراخ تھا اور جس میں ہم بہت آرام سے رہے۔یہ کمرہ تیسری منزل پر سامنے کی طرف تھا اور گو مکان اب بال نہیں تھا لیکن ہمارے کمرے سے سمندر کا نظارہ صاف نظر آتا تھا۔بلکہ میرے پلنگ سے لیٹے لیٹے بھی سمندر نظر نا تھا۔اور نتھ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے بہت پسندیدہ مقام سمجھا جاتا ہے۔ایک تو فاصلہ مندی زیادہ نہیں۔واٹر ٹو سٹیشن سے ریل دو گھنٹوں میں بور منتھ پہنچا دیتی تھی۔دوسرے سمندر کی جانب ایک سلسلہ ٹیلوں کا ہے جن کے نیچے رسیلا ساحل ہے۔ٹیلوں پر اور سائل کے ساتھ ساتھ سیر کے لئے کھلی جگہ ہے۔جس کی وجہ سے سیر کیلئے آنیوالوں کی کثرت کے اوقات میں بھی بھیڑ کا احساس نہیں ہوتا۔تیسرے شہر کے بیچوں بیچ خاصے فاصلے تک باغات کا ایک سلسلہ چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے سیر کے مقامات میں ایک قسم کا تنوع پیدا ہو جاتا ہے۔چوتھے سردیوں میں موسم اعتدال پر رہتا ہے اور دھوپ کے اوقات کی اوسط دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے۔ہمارے قیام کے دوران موسم یاں بھی خوشگوا رہا۔دو تین با سر باش اور میں بائیسکل کرئے پر لیکر یونارسٹ کی سیر کو گئے ایک دن ہم نے ناشتے کے بعد اور دوپہر کے کھانے کے وقت تک ۴۴ میں سفر بائیسکلوں پر کیا ایسی پہ میں نے مسٹر بانوش سے کہا مجھے پیاس لگی ہے۔پانی پیا تو ہے لیکن پاس بھی نہیں وہ باورچی خانے سے ایک پلیٹ میں دو ٹماٹر ےئے اور کہا یہ کھلا ان کے کہے پر پہلی باری نے کچھ ٹاٹر کھایا جس سے میری پیاس بجاتی رہی۔اتنے میں دو پہر کے کھانے کی گھٹی ہوئی اور ہم کھانے کے کمرے میں پہلے گئے۔کھانا ختم ہونے کے قریب آیا لیکن میں ابھی سیر نہ ہوا تھا مسٹر بارش کی نشست میرے ساتھ ہی تھی میں نے آہستہ سے انہیں کہا میں تو ابھی سیر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا سامنے غیر مکھن اور روٹی رکھے ہیں جس قدر چاہوٹھا