تحدیث نعمت — Page 644
۲۴۴ ہے۔میں نےاپنی صدارت کے دوران میںیہ التزام رکھ کہ ہرات سے پہلے ان امور کی خوب وضاحت کردی جاتی جس کے نتیجے میں سترھویں سالانہ اجلاس کے دوران میں بقدر انتخابات ہوئے انمیں ایک وٹ بھی کسی ایسی خامی کی وجہ سے شہر سے خارج ا انتخاب کنیت کا اعلان ہوتے ہی منخب شدہ امیدوار این تور کرکرسی صدارت منتقل ہو جاتاہے در مختص الفظ۔۔(MR ANDREW ا ہے اس میں بجلی کی ترتیب دیجات ہے اسکی ک الان وانا اخوان اور کامیون کمد وتے ہیں پی ٹی اجلاس کے ایجنڈے کو ترقی دیتی ہےاور ایکنی میں مل کر مال کو خلاف کیوں تقسیم کیا ہے۔بعض سائل کے متعلق کی سفارش کرسکی ہے کہ ابر کی کیٹی میں زیر با آن کے بارہ اسمبلی کے اجلاس می میری جنت میں جنرل ی کی پوری اسلامی میں ہو اور اسی ایجنڈے کی آفر منظوری دی ہے دوران اساس جب بھی ایجنڈے کے متعلق کوئی سوال ا ہوا ہے تو اس پہلے جیل میں میں وہ ہوتا ہےاور جیل کیٹی کی رپورٹ پر میل فیصلہ کرتی ہے املی کے سالانہ اجلاس کے متعلق ا امام اور امام ہوچکی ہے کہ اب ان کے تل اراکین این اما یکی را برای رانا اور چین کا کوئی نماینده مدر طانه نتخب نہیں کیا جائیگا۔اب صدارت کیلئے ان اراکین میںسے ایک کانامند ضرورت کی جاتا ہے گویان اراکین کو منزل کیٹی یں لانا نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں سہیلی سے متعلقہ امر کے انچار جناب سیکریٹری مسٹراینڈی کو کو روئے ORDER) تھے جو ابتدائے اقوام متحدہ سے اس منصب پر فائز چلے آرہے تھے۔وہ املی کے سولہویں اجلاس کے بعد مستعفی جوکر کو لبیب یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے میں ڈین کے منصب پر فائز ہوگئے تھے وہ ہر اجلاس میں صدر کے بائیں ہاتھ تھا اور اس کے دوران میں بات پر کے لیے مضر ہوا اس مرد کو مشورہ دیتی ہے۔اپنے علم تایت کی وجہ سمیت عام کر چکے تھے۔کیا ان کی کا وہ ہوتی تھی۔اسی کی بات کی ی خوب باہر ہوکے تھے کسی شکل کے پرانے سے پہلے جان لیتے لے کر رو پیدا ہوا ہے اور صدر کو شور دیتے ھے کہ کون طریق اختیار کرنامناسب ہوگا۔میں پہلا صدر تھا سے ان کا وہ میری انا نے تہیہ کا نائب سیکریٹری جنرل کے تجربے س محروم ہو جان میرے لئے وہ پریشانی تھامیں نے املی کے قواعدوضوابط کار اطلاع نہیں کیا جاتا اورصدر کو برندم په قواعد ے ساتھ سابقہ پڑتا ہے۔اراکین ہیلی چندایک کیوں کی مار کر کے ہوں یا ان کے متعلق خاص تیری ہوجاتا ے کی ایک کی صدارت و یا املی کی صورت کا پیش نیم کبھی جاتی اور مجھے بلی کی سی مٹی کی صدارت سرانجام دینے کا وقت ہیں ہوا تھا۔ان حالات میں صدارت شروع کرنے سے پیشتر نماز یں نہایت عاجزی سے اپنے مولا کے حضور التجا کی۔اسے المدیر منصب فالفق تیری عطا ہے۔تو اپنے اس عاجز بندے کی خامیوں سے خوب واقف ہے۔مجھے اس منصب کے فرائض کی سر انجام دہی میں تومشکلات پیش آئیں تو اپنے خاص فضل سے انہیں خود ہی مل فرمائیں اور ہر مرحلے پر اس عابدہ کی رہنمائی فرمائی۔**