تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 640 of 736

تحدیث نعمت — Page 640

۶۴۰ بھی اس سال کا استمال کشی کے متعل نہیں کیا مسٹر کا این جاتے تھے کہ والی کی طرف سے پیش کی گئی ہیں انسے کی کمرانی کا پلایا الا ایک انہوںنے جائے یہ بات تیم کر کے اس موضوع پر خاموش رہنے کے پھراپنے فل بیان کا اصرار اعادہ کیا۔وہ خو جاتے تھے کہ راکین مجلس جانتے ہیں کہ ایک بات غلط ہے لیکن وہ سمجھتےتھے کہ غلطیات کے بار بار اعادے سے بعض لوگ سمجھے لگ جاتے ہیں کہ شایدیہ بات صحیح ہی ہو ا ان سب امور کا واقعاتی اور حکم جواب دینے کے بعدمیںنے اراکین مجلس کی خدمت میں گذار کی کہ نال امان نے جو رات بھی پیش کئے ہیں وہ وانعال ی یا قانونی پاکستان و ہندوستان کی حکومتی کمیشن ک پیش کردہ دونوں تجاری یا اگست اور در سنوری شالیکو یل کی یہ ہی یہی ہندستان کہتے کہ ان تجاویز پاکستان کی زرداری ہندوستان سے دو نو ر ہے تو عذات اور دلائل پیش کئے جاتےہیں ان کا صفی عالی طریق سے کیا جاسکتاہے میں حکومت اکستان کی طر سے بہ خونی می کرتا ہوں کہ ہندوستان ہمارےساتھ اسرار اتفاق کرے کہ میں اس کی طرف سےبین الاقوامی بیت سے یہ رائے طب کی جائے کہ فریقین کے نام عدالت اور لائل تحریری اور تقریر پڑھ اور سکرین پر غور کرنے کے بعد عدالت پنی اے صادر کرے کہ موجودہ حالات میں کمشن کرونوں تجویدوں کے ماتحت دونوں حکمتوں پر کیاکیا و مداری عائد ہوتی ہے۔پھر پورے معات صادر کرے دو تو حکومتیں اسے تسلیم کرکے اس کے مابق عمل کریں۔پاکستان برای تصفیہ اختیار کرنے پر آماد اور نانا ہے۔ہندوستان بھی اپنی رامندی اور آمادگی کا اظہار کر دے۔اسطح بالکل پرامن طریق سے اس قضیے کا تصفیہ ہو سکتا ہے۔لیکن بندان اس طریق کو اختیار کرنے پرآمادہ نہ ہوا۔آخر مجلس کے پانچ غیرمستقل اراکین نے اس تجویز پر اتفاق کی کہ فریقین آپس میں ملا اصولوں کے مطابق اس قصے کا تصفیہ کرنے کے بارے میں گفت شنید کی لیکن مرکرین مین اس پر بھی رضامندہ ہوئے ور روس نے تجویز کے مخالف رائے دیگر اسے مسترد کر دیا۔کشمیر کا قضی مجلس ان کے رو برد اول اول ہندوستان نے جنوری اور میں پیش کیا تھا۔جب اراکین مجلس فریقین کے بیانا سنگر حقیقت سے آگاہ ہو چکے اور ہندوستان کیطرف سے ہو یا ان کے اتنے بچھایاگیا تھا میں الجھنے سے انہوں نے انکار کیا این نکاتی اصولوں کی انا پرانا اسے فریقین نے این ای میل کر کے تھے تو انسان نے راہ فرار اخیار کی اور دم بہ قدم اپنے سلمہ اصولوں سے بچھے منا شروع ہو گیا۔دونوں سے تیرا نام ہی کو کیاکرتے تھے میں نےاپنی دروغ بانیوں اور فریب کاریوں سے بین الاقوامی حلقوں میں ان کے روئے روشن کو سیاہ کر دیا ہے۔جھوٹ اور فری پیچ کی روشنی پر پردہ اے این اقوامی حلقوں میں وزیراعظم منایاگیاہے تو ایران کاناپیدا کیا ہواہے۔اقوام متحدہ کے سترھویں سالانہ اجلاس اب پروفیسر ملال اسکرا کی امید داری صدارت کے سلسلے میں کی صدارت کے لئے میری نامزدگی مغربی مالک کے نمائندگان میں سے بعض نے کہنا شروع کیا کہ اگر اشیا آئنہ سالانہ اجلاس کی صدارت کا خواہاں ہو تواس میں مضائقہ نہیں توالسيد عبدالمنعم الرفاعی سفیر اردن متعینہ "