تحدیث نعمت — Page 639
۶۳۹ دوستانہ تھا۔نہایت شریف طبی اور بلند اخلاق کے ان تھے ہماری آپس میں نے کافی تھی میں نے کیا ان کے دوران یٹی ٹین کی موجودگی کی خامشی میںنے سے کی تھی کہ انہوں نےمجھے کہا۔جنگ کی دینی کو معقل سعر تسلیم کئے نے رب کا کرم اور کیا تو رکھ سکتے ہو ہمیں جاتاتھا یہ اراضی ہوجائے گی انہوں نے یا واقعا یا کہاتھایامی نے ان کے الفاظ کو غلط سنا اور اگر یں نے نیا کی نایا ہے اس کی حکومت کا یہی موقف ہے۔بہرصورت میںاپنے ایک سرانجام دی کی ٹویٹ عورت کو جینے کا پانیوں اور ایک کنگ کی اوٹ کے لیے ہیں اس رات کا خواہشمندوں سے ملاقات کی ر ر ی تری میں تصدی کیوں کی امرکی حکومت شیر کے سلے کے اس امن میں یو کے آنے کے خلاف ہے ؟ گورنر سٹیونس نے فرمایا سفیر پمپٹن کے الفاظ تم نے صحیح سنے ہوں گے۔میں تمہارے متعلق یہ قیاس نہیں کرسکا کہ میں ایسے علما یں غلط نہ ہو۔لیکن یہ سفر مین کا ذاتی خیال ہو گا۔حکومت کا یہ موقف نہیں۔ملی مجلس امن کا اجلاس طلب کرتے ہیں لالا لال ہیں۔پاکستان میں حکومت کی خواہم م م ا ا ا بنا دیا گیا ہے کہ ان کی خواہش کے مطابق عمل کیا جائے میرے لئے یہ امر رنج کا موجب ہے کہ تمہیں اس معاملے میں کوئی پریشانی ہوئی ان کے کہنے کے مطابق یہ ابتدائی مرحلہ تعمال ہوگیا۔اور یہ دیکھ مجھے چھ اطمینان ہو کر اجلاس طلب کر لیا گیاتو امریکہ کی طرف سے بعدمیں کسی تم کا تساہل نہیں ہوا۔ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور روس کی طرف سے ہندوستان کی تائی کے مقابل پرکسی موثر کاروائی کی تو امید کی نہیں جاسکتی تھی جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے۔ہندوستان کا موقف یہ تھا ہمارا وکشی نے ریاست کا لاتی ندوستان کے ساتھ کیا اورکشمیر ہندوستان کا جزو لا ینفک ہو گا ہے (۲) پاکستان نے قبائلی نتھنوں کو مندوستان کے خان - نت کرکے ہندوستان کے خان جارحانہ اقدام کیا وزیراعظم ندوستان نے بھی استصواب رائے امر ( LE FAIS CITE) کی اطلاع کشمیر کےلئے استمال نہیں کیا پاکستان کشمکش کی تجویز کے مطابق انی اتوت کے ریاست سے انخلاء کی ذمہ داری کی تھی اسے پر انہیں یا اسکے پاکستان ائے شماری کا مطالبہ کرنے کا حقدار نہیں ہے) ہر صورت اس نزاع کو پیدا ہوئے بہت لمباعرصہ گزر گیا ہے اور حالات بہت بدل گئے ہیں۔اسلئے ہندوستان اب ائے شماری کا پابند ہی رہا۔(4) ہندوستانی پارلیمنٹ کشمیرکوہندوستان کا جزو لاینفک قرار دے چکی ہے اسلئے یہ ا علم ہوگیا ہے اور کوئی انواع باقی نہیں۔ان تمام ذرات کے تفصیلی جوابات سے کئی بار دیئے جاتے تھے اور پھر دیئے گئے۔اراکین مجلس خوب جانتے تھے کہ سب عذرات بے بنیاد ہیں مٹر کرشنا میں بھی اس حقیقت سے خوب واقف تھے اخط سنتان ال کے طور پر ان کے میرے عذر کے جواب مں میں نے دس سرکاری دستا دنیا سے پنڈت جواہر لال پیر صاحب در ارایم ندوی کے بیانات پڑھ کر سنائے جس میںانہوں نے تقیہ کشتی کے طے کرنے کا طریق استصواب رائے مارتی کیا تھا اور کہا اوربھی شاہی ہیں لیکن یہی ہے اراکین مجلس کا لکہ میرے نال مولی کا بھی اطمینان ہوگیا ہوگاکہ محترم وزیراعظم ہند نے بارہ استصواب رائے عامر کی اطلاع کا استعمال کمی کے متعلق کی ہے لیکن جواب جواب میں پھر سر کرنا میں نے سات کا اعادہ کیاکہ در انظم