تحدیث نعمت — Page 624
۶۲۴۴ ۱۹۶۵ء ونوں اسلوبی میں تھے۔ایک شام میں نے انکی خدمت میں گزاری میسر کلیٹا نے بتایا آج تمہارے آنے سے بہت باش ہیں۔در نواب عام طور پر خاموش اور مردہ رہتے ہیں۔فلیٹ سے باہر قدم نہیں رکھتے۔بہت شاذ کسی سے ملتے ہیں۔موسیقی کے ساتھ بھی وہ پہلا سال گاؤ نہیں۔ستمبر میں میرے اقوام محمد کا صدر مت ہونے کی رونے پرمجھے پن اور اپنی امی کی طر سے مبارکباد کا خط لکھ جو محبت اور اخلاص کے جذبات سے پر تھا۔جو کلیٹ ڈ ایسے فرشتہ میر انسان کی طرف سے ایسی محبت او شفقت کا اظہار میرے لئے بڑی خوشی اور اطمینان کا موجب توا۔وہ مٹی وار کا مال فرما گئے۔وہ میر تقی محسن نے اللہ تعلٰی ا کے سات رحمت کا سلوک فرائے میں نے کی یکم ماہواری کا کیا انہوں نے جو میں کہا ہمیں بتانے کی ضروت ہیں کہ انہی تمہارے ساتھ استاد اخاص کا تعلق تھا۔تہارا ایک خط نہوں نے اپنی بائبل کے سرورق کے ساتھ چپکایا ہواتھا۔محترمہ بیگم رعنا لیاقت علی خان شا اور مینج میں وزیر خاره یا اور فرمائیں انکی رضامندی حاصل ہونے کے بعد چودھری حمدعلی صاحب ہوگیا زیر اعظم اور مک ملا محمد صاحب گورنہ منزل کی منظور سے ان کا فریم میں آیا اور میرے کان میں انہوں نے اپنے منصب | یا اورده مردم شریف کے ہیں۔میں ھی بین الاقوامی عدالت کاری منتخب ہوکر مجبور شد میں ہی آگیا اور فروری باشد۔ت وینی راہ چونکہ اس سارے عرصے میں گم صاحبہ سنگی پاکستانی سے مالا مال کیا ہے کہ سکتا ہوں کہ انہوں نے فرائض اور ذمہ داریوں کو بڑی قابلیت اور بے وفا کے ساتھ انجام دیا ہالینڈ ی ان کانام نامی اور پاکستا کا نام مترادف ہوگئے تھے اور اس ملک میں ایک انہیں منای احترام کے ساتھ یا کیا جاتا ہے۔مکہ ہالینڈ کے ساتھان کے گہرے ستان امام تھے۔وہ ان کے سرکاری اور غیرسرکاری دونوں حلقوںمیں مقبول ہیں ان کے متعلق عام رائے تھی کہ کہ بولی کے بعد وہ ملک کی سب سے پہردلعز یہ خاتون ہیں۔ہالینڈ کی سب یونیورسٹیوں میں بھی ان کا نام میری عزت سے لیا جاتا تھا۔ان کا قاعدہ تھاکہ ان استقبالی دعوتوں میں الزام کے ساتھ باری باری یونیورسٹیوں کے چیدہ چیدہ طلباء کو ملوکرتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ور ان کی مان نوازی کا خاص خیال رکھتی تھیں۔جوطلباء دور سے آتے تو رسمی دعوت کے بعدان کیلئے کھانے کا نظام بھی راتیں ایسی مادرانہ شفقت کا اظہار ایک شفقت خاتون ہی کی طرف سے ہوسکتاتھا۔ان انتظامت میں ان کی رانی سیکریڑی مس کم ترین مائملزمان کی دست راست تھیں۔میرے ساتھ شفقت اور تواضع کا جو سلوک بگم صاحبہ نے اوران کی وجہ سے کپتانی ان ان کے لالانا این ویلے کے افرادنے دوا کا امیر والا بیگم صاحبہ ان سے مارنا ہوتا کہ مرنے والوں کی سرپر کوہ کے در دولت پر حاضر ہوں اور دونوں دن شام کا کھانا ان کے ہاں کھائیں۔کھانے پینے کے سلسلے میں مری ہر بی احتیاط اور طبعی رغبت کا پور لحاظ رکھا جاتا اسلئے مجھے بیگ کے قیام کے