تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 45 of 736

تحدیث نعمت — Page 45

۴۵ سا میں اوسط دو بار نیو یارک جانے کا اتفاق ہوتا رہا اور ٹورنٹو جانے کی بھی کوئی نہ کوئی تقریب پیدا ہو جاتی تھی ان مواقع پر والٹر اور اس کی بیوی سے ملاقات ہو جاتی تھی۔میاں بیوی دونوں بہت تو ان سے پیش آتے۔ایک بار عزیزہ امتہ الحمی میرے ساتھ امریکہ گئیں اور میں انہیں آبشار در کھانے نیا گر لے گیا۔نیو یارک سے ٹورنٹو تو ہم ریل میں گئے۔وہاں سے میرے ایک دوست تو وا کر ہمیں اپنی کار میں نیا گرائے گئے دوپہر کا کھانا ہم نے وہیں کھایا۔دن خاصا گرم تھا اور امتہ الحی ہر قعہ پہنے تھیں۔واپس روانہ ہوئے تو عزیزہ امتہ الھی کو سر درد کی شکایت ہوگئی اور اعضا اسکن محسوس ہونے لگی۔برانٹ فورڈ بالکل قریب تھا۔ہم والڑ کے مکان پر چلے گئے۔ایولین نے بڑی شفقت سے عزیزہ کے آرام کرنے کا سامان کر دیا اور عزیزہ اسپرین کی کمی کا کر سوگئی۔دو گھنٹہ بعد بیدار ہوئی تو بیعت بفضل الله با لکل صاف تھی۔ہم بخیریت و ٹورنٹو الیس پہنچ گئے۔ایک مرتبہ عزیزہ چودھری نبی احمد صاحب بھی اس علاقے کی سیر میں میرے ساتھ تھے۔آبشار سے ہو کر ہمارا پروگرام را برانٹ فورڈ ٹھہرنے کا تھا۔پھل کا موم تھا اور سڑک کے دونوں طرف پھل کے بڑے بڑے ڈھیر فروخت کیلئے لگے ہوئے تھے۔ایک جگہ بھر کر ہم نے آرومی کی ایک ٹوکری خریدنے کیلئے منتخب کی۔قیمت تور تا کرنے پر فروخت کرنے والی لڑکی نے کہا ایک ڈالمیہ میں تو سمجھ گیا لیکن چودھری نبی احمد صاحب نے میر سے در فیت کیا ایک ڈالر فی آرد ؟ یہاں تو پھل بہت مہنگا ہے۔لڑکی نے مسکرا کر کہا ایک ڈالر ساری ٹوکری کی قیمت ہے اس پر انہیں حیرت ہوئی کہ یہاں پھل استقدر سستا ہے۔برانٹ فورڈ پہنچ کر ہوٹل سے میں نے والٹر کو لیون کیا۔میاں بیوی نے اصرارہ کیا کہ ابھی آ جاؤ اور شام کا کھانا ہمارے ہاں کھاؤ ہم نے پھل کی ٹوکری انہیں پیش کر دی ایولین نے اس کا کچھ حصہ ہمارے لئے کھانا تیار کرنے میں استعمال کیا۔خواجہ کمال الدین صاحب کی تشریہ میں خواجہ کمال الدین صاحب لندن تشریف لائے لندن تشریف آوری۔ان دنوں ڈاکٹر عباداللہ صاحب امرتسر والے بھی لندن میں تشریف فرما تھے۔خواجہ صاحب کے لندن پہنچنے پر وہ انہیں اس مکان پر لے گئے جہاں وہ خود رہتے تھے۔پچونکہ اس وقت اس مکان میں کوئی تعالی کمرہ نہ مل سکا انہوں نے اپنا کمرہ خواجہ صاحب کو دے دیا اور جب تک دوسرا کمرہ نہ علاوہ خود ہ مین پر سوتے رہے۔تھوڑے عرصے بعد خواجہ صاحب اس مکان میں آگئے جس میں یں بہتا تھا اور مجھے روزانہ کچھ وقت انکی صحبت میں گذارنے کا موقعہ مل گیا۔دوران گفتگو سلسلہ احمدیہ کا ذکر بھی آتا تھا۔ایک دفعہ ہم دونوں سیر کیلئے جارہے تھے کہ فرمایا۔گورالدین کے بعد خلافت کے متعلق بھی رونا ہی پڑے گا و گفتگو پنجابی زبان میں تھی اور محبت کے رنگ میں خواجہ صاحب اکثر خلیفہ المیے ترقی