تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 606 of 736

تحدیث نعمت — Page 606

ے پر دستخط نہیں کر سکتا۔اس صوت کے پیش نظر حکوت پاکستانی فیصلہ کرے گی کہ پاکستان معابر یں شامل ہوسکتا ہے یا نہیں۔چونکہ پاکستان کانفرنس میں براہ شریک رہاتھا اور باقی سب اور کے متعلق ہمارا نقل کر سلیم کر لیاگیا تھالیکن اس اہم ترین مسئلے کے متعلق بصورت تھی وہ ہمارے لئے نای بخش تھی اور آخری اجلاس میں میں مارے پروخ کئے جانے تھے شروع ہونیوالا تا اور حکم کی ہدایت حاصل کرنے کے لئے وقت نہیں تھا میں نے صرف یہ زمہ داری کی کہ معاہدے کا مسودہ حکومت پاکستان کو بھیج دیا جائے گا اور وہ اپنے آئینی ضابطے کے مطابق معاہدے میں شمولیت یا عدم شمولیت کا فیصلہ کرے گی۔چنانچہ سورہ پر سبات کو واضح کرنے کیلئے میں نے حسب ذیل عبارت لکھ دی۔SIGNED FOR THE Purpose of Transmission To The GOVERNMENT OF PAKISTAN FOR IT TO TAKE ITS DECISION IN ACCORDANCE, WITH ITS ConstitutiONAL PROCEDURES اور وزیر اعظم صاحب کی خدمت میں تفصیلی رپورٹ بھی ارسال کردی۔کانفرنس کے ختم ہوتے ہی میں انگ کانگ، ٹوکیو سان فرانس کو کے رستے نیویارک چلا گیا جہاں اقوام متحدہ کی امیلی کا سالانہ اجلاس شروع ہونے والا تھا میری اطلاع کے مطابق تجب SEAT میں شمولیت کا سوال کا مینہ بی پیش مو انور آراء میں بہت اختلاف تھا لیکن بہت رد و کد کے بعد شمولیت کے حق میں فیصلہ ہوا۔بین الاقوامی عدالت کی رکنیت ، اکتوبر شداد کو من الاقوامی مالت کی بھی کا انتخاب عمل میں آیا قواعد کے کے لئے میرا انتخاب مطابق کامیابی کے لئے مجلس ان کی چھ آراء اور سمبلی کی سو را در کاقی مجلس امن کے اراکین میں سے جن چھ مالک نے شروع جون تک ہندوستان سےکوئی وعدہ نہیں کی تق ان میں سے پانچ نمی مارے حق میں رائے دینے کا وعدہ کر لیا ھے رکن برازیل کو آخری مال ان کی رائے تھی کہ اگر کوئی نشت کسی بھی کی زندگی سے خالی ہو تو اسے فوت شدہ حج کے ملک کے امیدار سے یہ کرنا چاہیئے اور اس موقف کے ماتحت انہوں نے اپنی رائے سٹر سیٹس پال کے حق میں دی۔میں نے اپنے سب سفارت خانوں کو ہدایت دی تھی کہ میں حکومت کی طرف سے مہندوستانی اسی والہ کو رائے دینے کا وعدہ ہو چکا ہو اسے ہرگز خلف وعدہ رائے دینے کی ترغیب نہ دی جائے۔ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات ا بہت دوستانہ تھے۔اقوام متحدہ میںان کے منتقل نمائندے سلیم سار پر صاحب تھے۔ان کے اور میرے درمیان نہایت گرے دوستانہ روابط تھے۔ترکی میں امن کا رکن تھا اور ان چھلکوں میں شامل تھا ہو شر وع جون تک ہندوستانی امیدوار کے حق میں رائے دینے کا وعدہ کر چکے تھے۔اس نے ہماری طرف سے اس بارے میں ترکی سے کچھ نہ ہا گیا۔جب سلیم سار پہ صاحب کو رین مرد یا عالم ہوا توانہوں نےاپنی وزارت خارجہ کو کھا کر ہم نے سٹریٹ پال کے حق میں ائے دین کا وعدہ کیاتھا اس وقت ہمیں یہ علم نہ تھاکہ کوئی اور امیدواران کے مقابل پر کھڑا ہوگا۔اب ظفر اللہ خان کو اس نشست کے لئے ان کے مقابل