تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 552 of 736

تحدیث نعمت — Page 552

۵۵۲ قائدا عظم فوت ہوگئے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔میں نے پوچھا کیا وفات کو سٹڈ میں ہوئی۔فرمایا انہیں آج سہ پر یہاں پہنچے اور یہاں پہنچنے کے بعد وفات ہوئی۔فرمایا می نے سب سے پہلے تمہیں لایا ہے کیونکہ اسامر کا فورا فیصلہ ہونا چاہئے کہ گورنر جنرل کون ہو۔خواجہ ناظم الدین کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا ان کا تقر بنات مناسب ہو گا علاوہ ان ذاتی خوبیوں اور وقاعد اور د سباعت کے ان کا تقر مشرقی پاکستان کے لئے اطمینان کا موجب ہو گا۔فرمایا میری نگاہ میں میں امر فیصلہ کن ہے۔قائد اعظم کی اچانک وفات سے تو اس سہم گئے اللہ تعالیٰ کی مشیت نے اس شخصیت کو جوانانی سعی اور تقدیر کے لحاظ سے پاکستان کے وجود میں آنے کا موجب بھی ایسے نازک وقت میں اٹھالیا جب یہ نوزائیدہ ملک اطمینان کا سائنس بھی نہ لے پایا تھا اور ہرطرف سے مشکلات میں گھرا ہوا تھا اور قائداعظم کے عزم اور حسن تدبیر کا درجہ محتاج تھا۔اگر اللہ تعالی اپنے کمال فضل سے انہیں دو سال اور زندگی عطا فرما تو اندازہ ہوتا ہے کہ بہت کی مشکلات اور الجھنوں کا جن سے پاکستان ابھی تک خلاصی نہیں پاسکال میسر آجاتا۔حافظ شیرازی کے الفاظ میں تند میری امید علی بود واللہ اعلم بالصواب۔بری نظر میں قائداعظم کی وفات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان میں اس عظیم صدمے کی برداشت کی طاقت نہ تھی لیکن اپنی حکمتوں کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اور اس کے فیصلہ میں دم مارنے کی گنجائش نہیں۔۱۹۴۸ سے 19ء تک میں بحیثیت وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کے فرائض سرانجام دیتا رہا اور بالعموم شروع سے آخر تک اجلاس میں شامل رہتا یاء کے اجلاس میں بھی تک ملو میں پاکستانی وفد کا سر براہ تھا۔لیکن اس وقت تک الھی میں وزیر خارجہ مقر نہیں ہوا تھا۔اس اجلاس کے دوران میں مجھے محسوس ہو کہ بین الاقوامی علوں میں بھی پاکستان کی آزاد حیثیت کا پورا علم نہیں۔اقوام متحدہ میں اکثر ملک کے نمائندگان سمجھتے تھے کہ پاکستان سندوستان کی ایک نم آزاد امریکی ریاست ہے جسے کسی مصلحت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی رکنیت دیدی گئی ہے۔دور کے مالک تو الگ رہے اقوام متحدہ کے عرب ممالک بھی ان دونوں پاکستان سے پوری طرح متعارف نہیں تھے۔جس دن اقوام متحدہ کی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا پاکستان کو معرض وجود میں نے ابھی مہینہ بھری جوانا اور ابھی اقوام محدہ کی رکنیت بھی حاصل نہیں تھی۔اقوام متحدہ کا کن نے کے بعد جب میں نے تصفیہ فلسطین پرسیلی تقریر شروع کی تو ر ماندگان کو بھی اندازہ نہیں تھاکہ پاکستان ان کے موقف کی تائید کرے گایا مخالفت تمہارے ون کو نیویارک پنچے ابھی چندن ہی گزرے تھے اور جب تک ہمیں رکنیت حامل جھوٹی ہماری کوششوں کے باوجود کسی نے ہمیں قابل التفات نہ جانا۔رکن بنتے ہی میں نے اولین موقع پر فلسطین کے مسئلے پر تقریر کی۔ابتدائی حصہ قضیہ فلسطین کے پس منظر کے متعلق تھا۔عرب مندر میں ماتھوں پر شکن ڈالے سنتے