تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 39 of 736

تحدیث نعمت — Page 39

سمجھ بھی آئی متفرق کھیل تماشہ مجھے پسند آتا۔اس کی غرض ہی مہنسی مذاق ہوتی سینما پہلے سال میں تو میں نے دیکھا ہی نہیں اس کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی کہ مجھے یہ معلوم ہی نہ تھا کہ سینما ہے کیا شے شیخ خورشید حقی صاحب نے جو مجھے گورنمنٹ کالج کے دنوں سے جانتے تھے مجھے ایک روز شام کے کھانے پر بلایا اور کھانے کے بعد کہا چلو تصویر یں دیکھیں۔میں نے کہا مجھے تو نہیں معلوم تصویر یں کیسے دیکھی جاتی ہیں وہ ہنسے اور کہا وہاں کچھ بھی کر نا نہیں ہوتا۔سب کچھ خود بخود صفانی سے سجھ میں آجاتا ہے۔تم چلو اگر کچھ بتانے کی ضروری ہوئی تو میں بتا دوں گا لیکن میں اپنے عذر پر قائم رہا اور نہ گیا۔آخر ستمبر سال میں جب میں رومن طلاء کا بار کا امتحان نے بیکا اور امتحانوں میں سے صرف فائنل امتحان باقی رہ گئے تو ایک سوس ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر تھو ہمارے مکان میں ٹھرے ہوئے تھے میں ان کے ساتھ اپنی زندگی میں پہلی بار سینما دیکھنے گیا۔طالب علمی کے تین سال کے عرصہ میں میرا اندازہ ہے کہ میں شاید دس بارہ دفعہ سینما، تھیٹر وغیرہ گیا ہوں گا۔اس نہ مان بھی میں امام جماعت کی طرف سے سینما ، تھیٹر سجانے پر کوئی بندش نہیں تھی۔لیکن مجھے طبعاً ہی ایسے کھیل تماشوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔البتہ می باریس شو اور رائل نیول اینڈ ملٹری ٹورنامنٹ دیکھنے پر سال شوق سے جایا کرتا تھا۔فروری شاید میں میں ایک مرتبہ اپنے عزیز دوست آسکر نبیلہ کو ساتھ لیکر دی مرسے کئی دیکھنے اولمپیاگیا۔یہ تمام کھیل خاموشی سے کھیلا جاتا تھا۔البرٹ ہال کے کانسرٹ کے بعد مسز بین برنج مجھے ایک کیفے لے گیئں جہاں ہم نے بچائے پی اور پھر مجھے مکان پر واپس لے آئیں۔یہ سارے دن کا پروگرام ان کی طرف سے ایسی شفقت کا اظہارہ تھا کہ اس نے میرے دل پر گہرا نقش چھوڑا۔بعد میںبھی وقتاً فوقت میرے منہ قیام یں تشریف لاہیں اور کبھی کس باغ میں کبھی کسی پاک میں سر کیلئے لے جائیں، یا کوئی عمل یا عجائب گھر دکھانے کیلئے لے جائیں۔ان کی گفتگو نہایت شستہ اور میرے لئے دلچسپی اور معلومات کے بڑھانے کا موجب ہوتی تھی به طانوی رسم و رواج اور طریق و اطوارہ کے متعلق مجھے ان سے بہت کچھ معلوم ہوا جو میرے لئے پی پی کا موجب بھی ہوا اور مفید بھی ثابت ہوا۔پہلی عالمی جنگ کا ان کی مالی حالت پر یہ اثر ہوا کہ پہلے سی فراخی کی حالت جاتی یہی کہا کرتی نہیں کہ میری ضروریات کیلئے تو میرے پاس کافی ہے اور شکر ہے کہ مجھےکسی کی محتاجی نہیں لیکن افسوس ہے کہ اب میں پہلے کی طرح دوسروں کی مدد نہیں کر سکتی اور نہ مہمان نوازی کے فرائض دل کھوں کرادا کر سکتی ہوں۔مجھے جب بھی بعد می انگلستان جانے کا اتفاق ہوتا میں انہیں ضرور ملتا۔درمیان میں خط و کتابت بھی رہتی۔میری بیٹی عزیزہ امتہ الھی کی پیدائش ا کے لئے بڑی خوشی کا موجب ہوئی کسی مغربی خاتون کی عمر کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ایملی کے متعلق میرا اندازہ ہے کہ جب ہم کی پہلی ملاقات ہوئی ان کی عمر ۳۵