تحدیث نعمت — Page 539
۵۳۹ تیار کی بیٹی اپنی اپنی رائے رکھے تھے لیکن ان دونوں کی رنے کا اترام کرتے تھے۔امریکہ بہت حدتک کامن ویلتھ کا معاملہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ کے مشورے پر چلتا تھا۔برطانیہ کے نمائندے سارا پاویل بیکری فریقین کی باہمی مفات سے کسی موثر طریق فیصلہ کے لئے کوشاں تھے لیکن وزیر اعظم برطانیہ اب ان کے مشورے پر عمل پیراہونے پر تیار نہ تھے۔لالر ڈمونٹ بیٹن اور سٹینفورڈ ریس کا شاپنا کام کر چکا تھا۔ہمارے وفد کے سیکر یٹری مسٹر ایوب کوم کرین نے بتایا کہ وزیر اعظم اٹلی اور سر فویل ہیکہ کے امین اختلاف استاد بڑھ چکا ہے کہ ٹریکر مستعفی ہونے کی سوچ رہے ہیں اس امر کی تصدیق شدہ میں خود سراویل بیکر نے کی۔وہ اس وقت وزارت سے علیحدہ ہوچکے تھے۔میرے ان کے سسہ سے دوستانہ مراسم تھے۔بارہ میں اقوام متحدہ کی اسمبلی کا اجلاس پیرس میں ہو رہا تھا۔مسٹر نوئیل ہیکہ کا گذر پیرس سے ہواتو وہ مجھے ملنے تشریف لائے۔باتوں باتوں میں کشمیر کا ذکر چھڑ گیا۔فرمایا میرے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہے کہ اس قضیے کے خاطر خواہ تصفیہ کی صورت پیدا ہوئی مگر بات بنتے بنتے بگڑ گئی فرمایا شام میں نیو یارک میں میں نے بڑی کوشش سے سرگوپال سوامی آئیگا اور با چپانی کو آمدہ کرلیا تھا ک ده پارت ہر کو قرارداد منظور کرنے پر رضامند کریں۔انہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ پوری کوشش کریں گے۔چنانچہ ہفتہ کے روز دونوں الگ الگ مجھے منے کے لئے آے اور کہا ابھی اخته اطلاع نہیں آئی لیکن ہمارے پیغام کا ردعمل نوشگوار معلوم ہوتا ہے۔امید ہے دو ایک دن تک واضح ہدایت آجائے گی اور بابا اندازہ ہے کہ سوموار یا منگل و ا یک ہم آپ کو پختہ اطلاع دے سکیں گے۔THEN ON MONDAY I RECEIVED THAT Disastrous UPSETTING TELEGRAM FROM ATLEE EVERYTHING اور پھر سوموار کے دن مجھے اٹلی کا وہ منحوس تارہ وصول ہوا جس نے سارے عالم کو بگاڑ کے رکھ دیا) میں نے سخت احتجاج کیا لیکن ایلی نے میری ایک نہ مانی ملکہ اس بات سے میرے خلاف دل میں گرہ باندھ لی۔تھوڑے عرصے بعد مجھے امن و میتھ کی ذات سے علیدہ کر کے بھی اور ان کا وزیر بنا دیا اور کچھ عرص لعدوانہ سے ہی الگ کر دیا۔آخر کار جب مجلس امن میں چینی نمائندے نے تو مارچ کے مہنے میں مجلس کے صدر تھے ایک نئی قرارداد کا مسودہ پیش کیا تو ہمارے سب خدشات صحیح ثابت ہوئے۔یہ قرار داد ان تجاویز کے مطابق تھی جس کا ذکر وزیراعظم مسٹر ائیلی نے میرے ساتھ لندن میں کیا تھا۔پہلی قرار داد کے مقالے میں یہ قرار داد بہت کمزور تھی۔حقیقت یہ تھی کر جیب مٹر نوئیل باکس گوپال سوامی آئیگا اورسرگرم ماشنکر یا سچائی کے ذریعے پنڈت جواہر لال نہر کو سلی مجوز قرار داد منظور کر لینے کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں تھے تو پنڈت صاحب لارڈ مونٹ بیٹن اور سہ سٹیفور ڈگر پس کے