تحدیث نعمت — Page 482
برطانیہ کو متنبہ کیا ہے۔✓۔۔۔حکومت برطانیہ کی طرف سے رائیل انسٹی ٹیوٹ اسی خام حکومت برطانیہ کی طرف سے کانفرنس کے اعرانہ آن انٹر نیشنل کانفرنس کے مندوبین کو دعوت میں کار یہ ہوٹل میں شام کے کھانے کی دعوت دی گئی۔اور اس میں آزادی ہند کی تائید میں میری تقریہ حکومت کی طرف سے لارڈ کر مینورن جو اس وقت لارڈ پر نیوی سیل تھے اور بعد میں اپنے والد کی وفات پر مار کو میں آن سالسبری ہوئے میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے وزیر اعظم مرح پل کے سوائے حکومت کے سب اراکین مشمول نائب وزیر اعظم سرائیلی اور اور انٹر اور امان دعوت میں موجود تھے یا ہو کر فیورن نے مہمانوں کا جام صحت تجویز کرتے ہوئے کامن ویلتھ کی اہمیت کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کی۔مہمانوں کی طرف سے میزبان کی تقریہ کا نیم مزاحیہ جواب تو ایک کینیڈین مندوب مسٹر سٹینفورڈ نے دیا جو ایک اخبار کے ایڈیٹر ہونے کے لحاظ سے اس کے اہل بھی تھے سنجیدہ جواب دینے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی میری سریر کی تقریہ کا ہت پر چاہو کا نا اور وقت کی بات تھی کہ میں ہندوستان کی آزادی پر یزید کچھ کہوں گا۔دعوت میں جانے سے پہلے میں یہ عربی من است که هندوستان کی آزادی میں تاخیر کی ذمہ دار تی سن تمامتر حکومت برطانیہ پر نہیں ڈالی جاسکتی کیونکہ بند مسلم اختلاف کے پیش نظر حکومت برطانیہ بہت مدتک معذوریہ گردانی جاسکتی ہے۔میں نے اپنی تقریر کے دور ان میں آزادی کے موضوع پر کہا حکومت برطانیہ ہند وسم انتقلات کا ذبہ رکھ کر ان ذمہ داری سے گریز نہیں کرسکتی۔جنگ کے دوران میں برطانیہ اپنی بہت سی مشکلات کامل دوریتا کرنے میں کامیاب ہو گیاہے۔کیا مہندوستان کی آزادی ہی ایک ایسا مسلہ ہے جس کا حل دریافت کرنے سے روانہ عاجزہ ہے ؟ بیشک یہ مسئلہ مشکل ہے لیکن برطانیہ کا تیر اس مشکل کا حل تجویہ کرنے سے عاجزہ نہیں ہونا چاہئے۔گر ہندو مسلم اختلاف ہی اس مسئلے کے حل کرنے میں سب سے بڑی روک ہے تو برطانیہ اپنی نیک نیتی کا ثبوت اس واضح اعلان سے پیش کر سکتا ہے کہ اگر فلمی تاریخ تک ہند وستان کی طرف سے مند و سلم اختلافات کا متفقہ حل تجویز نہ کیا یا گیا تو حکومت برطانیہ اپنی طرف سے ایک قرین الفان حل تجویز کر کے اسکی بنا پر ہندوستان کیلئے ایک ایک آئین وضع کر دیگی جس کے رو سے ہندوستان کو نو آبادیات کا درجہ حاصل ہو جائے گابہ آئین عارضی ہو گا یونی مستقل آئین پر فرقہ وارانہ اختلاف رفع ہو کہ اتفاق ہو جائے گا پارلیمنٹ متفقہ دستور کے مطابق آئین وضح کر دیگی اور اسے رائج کر دیا جائے گا۔اس اعلان کے نتیجے میں ہندوستان بلکہ سارہ یادنیا برطانیہ کی من نیست کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی۔دعوت کے اختتام پر بہت سے وزراء نے میری تجویز کے متعلق گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔لارڈ سائمن لارڈ چان نے کہا تم جلد کسی دن ہاؤس آف لارڈ نہ آکر دوپہر کا کھنا میرے ساتھ کھاؤ۔میں تمہاری تجویز کے متعلق فت