تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 421 of 736

تحدیث نعمت — Page 421

میں صرف ایک بات تم سے پو چھنا چاہتا ہوں۔اور جیسے تم کہو گے ویسے ہی میں کروں گا۔جنگ کا زمانہ ہے ہم نہیں جانتے کس کہوگے ویسےہی رات لندن کو بموں سے اڑا دیا جائے۔اگر انور لندن میں ہوا تو اس کے والدین کو اور تمہیں ہر وقت اس کے متعلق پریشانی ہو گی اور میں بھی اس کی خیریت کے متعلق ذمہ داری محسوس کروں گا۔اسلئے اگر تم چاہو تو یں اس کی ٹرینگ کا انتظام کلتے یں کر دیتا ہوں۔میں نے کہا یہ سوال آپ انور سے کریں۔اس کے جواب پر غور کرنے کے بعد جیسے مناسب ہو فیصل کریں انہوں نے گول کمرے سے انور کو لایا اور تو بات مجھ سے کہی تھی انور سے کہی۔اس نے ملا تامل کیا۔جناب بیشک جنگ کا زمان ہے یہاں تو حال اوردو کا ہو گا وہ میرابھی ہو گا۔اگر آپ مجھے ٹرینگ دینے کا فیصلہ کریں تومیں لندن میں ٹرینگ لینے کو تری دوں گا۔جب اور گول کرے میں واپس چلا گیا تو ایڈوکیٹ نے مجھ سے کہا میں انور کی بات سے بہت متاثر ہوا مجھ سے ہوں۔یہ روح ہے جسے ہم اپنے سب کام کرنے والوں کے لئے پسند کرتے ہیں۔ہم نے آپس میں طے کیا کہ حب اور میرے ساتھ اپنی ڈیوٹی ختم کرے گا تو ول کی کمی کے ساتھ اپنی ٹرینینگ شروع کر دیا۔بیٹے کر کے ہم دونوں بھی گول کمرے میں واپس آگئے اور چند منٹوں کے بعد اور اور میں لارڈ کیٹو سے رخصت ہو کہ لندن واپس پچھلے آئے۔لارڈ کیٹو بعد میں بنک آف انگلینڈ کے گور نہ ہوئے۔جب بھی میں انگلستان جاتا تو انہیں ملنے بینک آن انگلینڈ جانا۔عا طور پر مجھے لینے کیلئے بلاتے۔اس وقت تک جنگ زوروں پر بھی اور کھانے پینے کے مشعلی بہت کی پابندیاں تھیں۔کچھ قانون اور کچھ اجزاء کی کمی یا رانی کی وجہ سے لیکن بنک میں کھانا نہایت لذیز اور با افراط ہوا کرتا تھا۔کھانے کے بعد گورنر صاحب میرے ساتھ نیک کے موٹر خانے تک آتے اور شوفر کو ارشاد فرماتے۔سرظفراللہ کو جہاں یہ جانا چاہیں لے جاؤ۔جب تک وہ زندہ رہے بہت شفقت سے پیش آتے رہے۔انور سے بھی بہت شفقت کا سلوک کرتے اور میرے پاس اس کے کام کی بہت تعریف کرتے تقسیم ہند کے بعد بھی اور کھلکتے میں اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کیلئے ٹھہرارہا ہوا ء میں ایک وقت کلکتے ہیں مسلمانوں کیلئے حالات بہت مخدوش ہو گئے۔میں ان دونوں چند دنوں کیلئے لندن میں تھا۔لارڈ کیٹو نے مجھ سے کہنا ظفراللہ میں نور کے متعلق بہت پریشان ہوئی۔اب تو یور میں بھی کلکتے میں محفوظ نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ الوز کو ایک دو سال کیلئے لندن ہیڈ آفس میں بلالوں۔جب حالات سدھر جائیں تو وہ کلکتے واپس جاسکتا ہے۔ی نے کہامیں کراچی پہنچ کر انور کے والد سے بھی بات کروں گا اور ٹیلیفون پر انور سے بھی بات کروں گا پھر آپ کی خدمت میں اطلاع کروں گا۔انور کے ابا جان نے کہا میں طبعا پریشا نی تو ہے لیکن انور سے پور پھلو جیسے وہ چاہے ویسے ہی ہونا چاہئیے۔میں نے انور سے بات کی اس نے کہا آپ دعا کریں میں بھی دعا کروں گا اور کل آپ کو اطلاع کروں گا۔درس ہے دن کہا کل بھی میری بھی رائے تھی لیکن آج میں زیادہ وثوق سے کہی سکتا ہوں