تحدیث نعمت — Page 24
دنیا میں داخل ہونا تھا۔جس کے متعلق مجھے کچھ بھی علم نہ تھا۔انگریزی لکھنے پڑھنے کی کسی قدر مہارت توسکوں اور کالج میں حاصل ہوگئی تھی لیکن بولنے کی بہت کم مشق تھی۔یورپ کے تمدن اور معاشرت سے دور کی آشنائی بھی نہ تھی یہاں تک کہ میں نے کبھی چھری کانٹے کا استعمال بھی نہیں کیا تھا اور نہ سی کو استعمال کرتے دیکھا تھا ان دنوں تو ہمارے نوجوان طالب علم خصوصا بڑے شہروں میں رہنے والے بہت حد تک مغربی تمدن اور معاشرت کے طور طریقوں سے واقف ہو چکے ہوتے ہیں۔لیکن اس زمانے میں تم ان کو چوں سے قطعا نا آشنا تھے۔ہم کمیٹی میں ایک سلم ہوٹل میں ٹھہرے جس کا نام شاہ جہاں سیلیس ہوٹل تھا۔اس کے مالک اور منجول میاں کے ایک خواجہ صاحب تھے۔اس زمانے کے اندازے کے مطابق یہ ایک صاف سخری آرام دہ قیام گاہ مخفی بیٹی پہنچنے کے دوسرے دن ٹامس لک کے دفتر جاکر یکٹ وغیرہ کے انتظامات جو پہلے سے طے شدہ تھے مکمل کئے اور جہاز کے اور سفر کے متعلق ضروری معلومات حاصل کیں، پہلی عالمی جنگ سے پہلے یورپ کے صرف دو ممالک نہ کی اور روس کیلئے پاسپورٹ درکار ہوتا تھا۔باقی ممالک کیلئے پاسپورٹ کی ضرورت نہ تھی۔البتہ بنک وغیرہ میں شناخت کیلئے حاکم ضلع کا دستخطی ایک سرٹیفکیٹ احتیاط سے کیا جاتا تھا۔جہاز کی روانگی کا وقت بارہ بجے دو پہر تھا اور مسافروں کو ہدایت تھی کہ وہ کم سے کم ایک گھنٹہ قبل پہنچ جائیں۔اس جہاز نے اگر نیند ڈاکس سے روانہ ہونا تھا۔ہم بروقت پہنچ گئے سیکنڈ کلاس کے مسافروں کیلئے تختہ بہانہ پہنچنے کیلئے تو جگہ مفر تھی وہاں پہنچ کر الہ صاحب نے اسلامعلیکم ایک ماہ کیلئے ان بڑھایا۔میں نے جلدی میں مصافحہ یا اور وہ رخصت ہو گئے۔مصافحہ کرتے وقت میں نے دیکھا کہ ن کا چہرہ میری طرف نہیں تھا۔انہوں نے عمداً اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تھا شاید انہیں اداریہ تھا کہ اگر انہوں نے میری طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر جدائی کے احساس کے اثرات نظر آئیں گے جن سے میری طبیعت افسردہ ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصواب ی مجھے علم تھاکہ میری جدائی ان پر شاق ہوگی سیالکوٹ سے روانہ ہونے سے پہلے بھی کبھی کبھی ایسے اثرات ظاہر پرشان ہو جاتے تھے۔بہانہ کا پہلا سفر۔جہاز میرے لئے ایک بالکل نئی دنیا تھی۔یہ دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا کہ میرے کمرے کے دوسرے مکین میرے ایک ہم جماعت ہی تھے۔یعنی مولوی محمد علی صاحب جو مولوی عبد القادر صاحب قصوری کے صاحبزادے تھے۔میرے ایک اور ہم جماعت بھی ہمارے ہمسفر تھے۔شیخ محمد سعید صاحب (یہ بھی تصور کے رہنے والے تھے ، مسٹر گور ددت سوندھی ایم سے بھی اسی جہانہ پر سفر کر رہے تھے لیکن وہ اول درجے میں تھے۔کوٹر بر ساڑھے چار ہزارن کا بہانہ تھا اور اسکی رفتار بھی اسی کے مطابق تھی جب جہان روانہ ہوا تو ہم عرشے کی آرام کرسیوں پر بیٹھ کر بیٹی کا نظارہ کرنے لگے۔ابھی یہ نظارہ سامنے نہی تھا کہ جہانہ