تحدیث نعمت — Page 359
۳۵۹ احرار کونسل میں سوال کر کے بھی معلوم کر سکتے ہیں اسلئے انہیں خط کا مضمون ظاہر نہ کئے جانے پر اصرار نہیں۔یہ قضیہ جو مٹر ایمرسن گورنر پنجاب نے کھڑا کر دیا تھا اس طرح وقتی طور پر فرو ہو گیا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ گورنر کے دل سے کدورت کی میل دھوئی نہ گئی کیونکہ استوار کی طرف سے جماعت کی ایذا نہ ربانی کا سلسلہ جاری رہنا ان کے حوصلے یہاں تک بڑھے ہوئے تھے کہ شہہ کے موسم گرمامیں قادیان میں رہنے والے ایک غیر احمدی شرارت پسند نوجوان نے صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب پر جبکہ وہ سائیکل پر سوار شہر سے دارالعلوم کی طرف تشریف بیجار ہے تھے اچانک لاٹھی سے حملہ کیا جس سے ان کے کندھے پر ضرب آئی۔صاحبزادہ صاحب اپنی خوبیوں کی وجہ سے جماعت احمدیہ کی ایک نہایت کی محبوب شخصیت تھے اور اس حرکت کی غرض صریحا یہ تھی کہ جماعت کے افراد کو اشتعال دلایا جائے اور اس طرح قادیان میں ہنگامہ کھڑا کر کے جماعت کے خلاف کاروائی کا موقعہ پیدا کیا جائے۔اگر چہ یہ واقعہ افراد جماعت کیلئے مریخ و اندوہ کا موجب ہو الیکن انہوں نے اپنی روایتی امن پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کو اپنے ہا تھوں میں لینے سے احتراز کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔گورنر پنجاب اور امام جماعت احمدیہ کی ملاقاتیں کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ المیے کل کے علاقے میں منالی کے مقام پر تشریف رکھتے تھے کہ گورنر صاحب شملہ سے سڑک کے راستے لاہور جاتے ہوئے چند دن کے لئے منائی ٹھہر جب انہیں معلوم ہواکہ امام جماعت احمدیہ نالی میں تشریف فرماہیں تو انہوں نے حضور کو سہ پہر کے ناشتے کی دعوت دی سے حضور نے قبول فرمایا اور اس طرح باہم تبادلہ خیالات کا وقعہ پیدا ہوگیا۔گورنر نے کہا آپس میں بعض امور کے متعلق غلط فہمی رہی ہے۔میں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر چاہتا ہوں کہ ہم ان امور پر بالمشافہ تبادلہ خیالات کرلیں۔بہتر ہو اگر پہلے آپ انا نقطہ نگاہ بیان فرما دیں۔حضرت خلیفہ المسیح ابھی ان بات ختم نہ کرپائے تھےکہ شام ہوگئی۔گورنرنے کہا آپ کو جب لاہور آنے کا اتفاق ہو تو اپنے سیکر یٹڑی سے فرما دیں وہ میرے سیکریٹری کے ساتھ ٹیلیفون پر ملاقات کا وقت طے کرلیں۔چنانچہ کچھ عرصہ بعد دسری طاقات لاہور میں ہوئی۔اور بہت حد تک دونوں اصحاب کو ایک دوسرے کے خیالات سے آگا ہی ہوگئی میرے وطن مالوف ڈسکہ میں اقتدار کی مخالفت اور پولیس اور ڈلنگ کی والہ ایلی کے باقی ماند عرصہ کا میرے بھائی اور دیگر احمدیان کے خلاف جھوٹا مقدمہ میں کوئی مزید ایسا واقعہ منی لعین جماعت احمدیہ کی طرف سے نہ ہوا جو ذاتی طور پر میرے لئے پریشانی کا موجب ہوتا۔لیکن سواء میں ان کے جانے کے بعد ایک ناگوار واقعہ رونما ہوا۔میرے وطن مالوف ڈسکہ میں احرار نے ایک جلسہ منعقد کیا۔میرے بھائیوں میں سے صرف چودھری شکر اللہ خال مرتب ڈکے میں موجود تھے کیونکہ ان کی مستقل رہائش رہیں تھی۔ان کے علاوہ گاؤں میں دس بالغ مرد جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے۔ان میں سے کوئی احرارہ کے سلسے میں شامل ہوا نہ جلسہ گاہ کے قریب ہی گیا۔مغرب کی نماز کے وقت