تحدیث نعمت — Page 333
انون کی پریکٹس کرنے کے سکول کی ٹیچر ہوگئے تھے۔ان دنوں چند نچلے نو جوانوں نے چاندی کو دکھانے کی می میں ایک کمپنی بنائی اور سروری یہ ہے کہاکہ وہ ان کے قانونی کاغذات تیار کر دیں۔اور کمپنی کے رجسٹریشن وغیرہ کے متعلق سب کا روائی سرانجام دیں۔اس کام کی نفیس کے عوض انہیں معقول تعداد میں کمپنی کے حصص دید یئے جائیں گے۔مسٹرڈ نکلیپ رضامند ہو گئے۔کمپنی کو چاندی کا کھوج تو نہ ملا مگر سونے کا مل گیا اور مسٹرڈ کلیپ مالا مال ہوگئے۔مسٹر ڈیلیپ کو نہراعتی فارم بنانے کا بہت شوق تھا کیونکہ ان کا سینہ کمزور تھا اور وہ کھلی ہوا میں رہائش اختیا کرنے کے خواہش مند تھے لیکن عمرنے وفانہ کی اور وہ جلد تپ دق سے فوت ہو گئے۔ان کی یاد میں مسٹرڈ میپ نے بینام بنا یا۔فارم کیا تھا مویشیوں کے لئے بہشت تھا۔ہم مویشی خانہ دیکھنے گئے تو قریب پہنچنے پر میں سمجھا کہ سامنے کی مار میں فارم کے میر اور علے کے رہائشی نکلے ہیں دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگی ہوئی تھی کھڑکیوں میں پھولوں کے بکس رکھے ہوئے تھے اندر جاکر معلوم ہوا کہ یہ سب مان فرحت و آسائش کو ماتا کیلیے مہیا کئے گئے ہیں یہ گائے کا الگ الگ تھان۔۔ن تھا۔نرم بستر عمدہ چارہ اور صاف پانی میسر تھے اور ریڈیو کے ذریعے موسیقی کا بھی انتظام تھا صبح وشام دودھ دوہتے وقت سر طی موسیقی کی تانیں ان مشیر دونوں کو محفوظ کرتی تھیں۔ایک گائے کے متعلق بتایا گیا کہ اس کا تھان علی ریڈ لو گے نیچے تھا کسی ضرورت کے ماتحت اس کا تھا بدلا گیا تواس نے دو دن بند کر دیا۔جب اسے پرانے تھان پر واپس لایا گیاتو درد ھو پھر پہلے ہی افراط سے جاری ہو گیا۔ایک خاص نسل کا قیمتی بھیڑا PRAIRITE کے علاقے سے فارم کیلئے خریدا گیا۔چونکہ علاوہ عالی نسب ہونے کے نازک اندام بھی تھا اسلئے اسے ہوائی جہاز سے لانے کا انتظام کیا گیا اور اسے پر چوٹ سے نارم یں اتارا گیا ان دنوں انسانوں میں سے بھی بھی کسی کس کو ہوائی جہا سے سفر کرنا نصیب ہوا تھا۔فارم کے رہائشی کالا کے ایک وسیع کمرے کی تعیت اونچی رکھ کر اس کے اندر لکڑی کا وہ تھونڑا رکھا تھا جس میں مسٹر اور مسنر نلی نے شادی کے بعد انی الی زندگی شروع کی تھی مستر لیپ کا ایک مکان شہر میںبھی تھا۔سردیوں میں ان کی رہائش شہری ہوتی۔گرمیوں میں کچھ وقت شہر یں اور کچھ فارم میں بسر کر ہی ان کے ایک ہی صاحبزادے موفاٹ ڈنلیپ ان دنوں آکسفورڈ میں تعلیم پا رہے تھے۔کامن ویلتھ کانفرنس کانفرنس کے مختلف PANELS میں کئی مسائل زیر بحث آئے ، ایک دلچسپ آئینی مسئلہ جس پر بہت بحث ہوئی یہ تھا کہ جنگ کی صور میں اگر کامن ویلتھ کے اکثر ملک جنگ میں شامل ہوں تو کیا کچھ مالک کا غر مانیک رہنا ممکن ہے ؟ اس وقت تو کسی نتیجے پر اتفاق نہ ہو سکا لیکن لاء میں جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو انگلستان کے اتباع میں کامن ویلتھ کے باقی تمام مال تو جرمنی کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے لیکن آئرلینڈ غیرجانبدار رہنا اور اس پتھ کارکن بھی رہا۔اس طرح یہ ملکہ عملاً حل ہو گیا۔اس وقت تو کامن ویلین کی رکنیت کی راتی که بر کن تا جدار برطانیہ کو انا ا تسلیم کرے۔ہندوستان اور پاکستان جمہوری ملکیت بنانے کے عادی کام یونین کے رکن ہے تویہ شرابی ساداتی اب تو بر برطانوی مقبوضہ خود مختار ہونے کے بعد جمہوری مملکت بن جاتا ہے اور کامن ولیمہ کا رکن بھی رہتا ہے البتہ ملکہ انگلستان