تحدیث نعمت — Page 329
جنرل مسٹر اولین میکیڈم نے مجھ سے کہا کہ انٹی ٹیوٹ کی سری پستی میں ایک کامن ویلتھ ریلیشنر کا نفر نس کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اگست کے مہینے میں ہونے والی ہے۔مناسب ہوگا کہ ہندوستان کی طرف سے بھی ایک وفد اس کانفرنس میں شامل ہو۔سرا اسامی مالیار میر مقبول محمود صاحب اور مجھے اس میں شمولیت کی دعوت دیگی۔ہم اورلول سے وحین لائن کے جہانہ پر مانٹریال گئے۔چند گھنٹوں کیلئے جہانہ کیوبک ٹھہرا۔جہانہ سے شہر کا نظارہ بہت غریب تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اٹھارویں صدی کے فرانس کا ایک ٹکڑا کاٹ کر سینیٹ لالہ حسن کے کنا رے پر رکھ دیا گیا ہے کیوبک سے جہاز نے لنگر اٹھایا تو سامنے دریا پر پیل نظر آر ہا تھا بظاہر یوں معلوم ہوتا تھا کہ جہان کے قریب پہنچنے پر ی تویل کا وسطی حصہ کی لائے گا یا اگر ایسانہ ہوا تو جہاز کے بادبان پل سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گے جہا نہ تندر کے پل کی طرف بڑھتا گیا لیکن پل کا کوئی حصہ نہ کھلا سب مسافر یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔جہانزیل کے نیے پہنچا دکھائی دیا تو بعض مسافروں کی چیخیں نکل گئیں لیکن بادبانوں کا پل کے ساتھ تصادم نہ ہوا۔آنکھ کو تو ایسے دکھائی دیا کہ بیل تک پہنچ که بادبان خود نیچے ہو کر سمٹ گئے اور پل کے نیچے گذر کر دوسری طرف پھر پہلے جیسی بلندی اختیار کر بی سکین در اصل یہ سب کیفیت ایک قریب نظر تھی۔پل کی بلندی اتنی تھی کہ جہانہ آسانی سے نیچے سے گزر سکتا تھا البتہ آنکھ فریب کھا جاتی تھی۔کیوبک سے مانٹریالی تک دریا کے دونوں طرف فرانسیسی عقل کے لوگوں کی آبادی ہے ، منتظر نہایت دلفریب ہے۔یہ سارا دن بہت لطف میں گذرا ، غروب آفتاب کے وقت ہم مانٹریال پہنچے۔رات میں فورڈ ہوٹل میں ٹھہر مانٹریال کی ہر بات میرے لئے انو کھی تھی۔یہ شہر یورپ اور امریکہ اور خصوصاً انگلستان فرانس اور کینیڈا کا مرکب ہے نیا دنیامیں یہ میرا سہل اور دو تھا اور یہ دنیا مجھے سے بچے ہر لحاظ سے نئی معلوم ہوتی تھی بعد می کئی بار مجھے کیو بک اور مانٹریالی جانے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے ہر بار میاں کے نام کو خوشگوار پایا۔سچ تویہ ہے کہ کینیڈ کے ہر شہر اور ہر خطے کے متعلق میری طبیعت پر یہی تاثر ہے۔مانٹریال ایک دن ٹھہر کہ میں آٹووا گیا جو کینیڈا کا دارلحکومت ہے۔چند گھنٹے وہاں ٹھہر کر ٹورنٹو چلا گیا۔کانفرنس وہاں کی یو نیورسٹی کے ہارٹ ہاؤس میں ہونے والی تھی۔ابھی کا نفرنس کے شروع ہونے میں کچھ دنوں کا وقفہ تھا۔میںصرف ایک رات ٹورنٹو ٹھہرا ٹارٹ ہاؤس کے دارہ ڈن مسٹر بکر سٹتھ نے ٹارٹ ہاؤس ہی میں میرے قیام کا بہت آرام وہ انتظام کر دیا تھا۔نیو یارک کا پہلا سفر | دوسری صبح میں نیو یارک روانہ ہو گیا۔BUFFAL اسٹیشن پر گاڑی بدلی موسم گرم تھا مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی اسٹیشن کے ET BUFFET سے میں نے بٹر ملک BUTTER MILK لیا اور اس میں اتناہی برف کا پانی ڈال کر مستی بنائی اور تھوڑا سا نمک ملا کہ سیر ہو کر پیا جس سے مجھے بہت تسکین ہوئی شام ہونے تک ہم نیو یارک پہنچ گئے۔وہاں میری کسی سے واقفیت نہ تھی سفر کے آخری حصے میں ریل کی کھڑکی سے "