تحدیث نعمت — Page 324
کریم فرماتم سے ملنے کے بڑے شائی ہیں وہ ہر روز کلب میں تشریف لاتے ہیں۔ہم کلب چلتے ہیں وہاں ان سے بھی ملاقات ہوئیا گی کلب میں سید صاحب نے میر التعارف خان بہا در قلی خان صاحب سے کرایا۔خان بہادر صاحب بڑے تپاک سے ملے۔فرمایا ہم تو گول میز کانفرنس میں زیر بحث مسائل کی پیچیدگیوں سے واقف نہیں۔اتنا جانتے ہیں کہ ہندو اخبارات آپ کے متعلق بہت برا بھلا لکھتے ہیں جس سے ہمیں پختہ یقین ہو گیا ہے کہ آپ کے مسلمان ہیں ! خان بہادر صاحب کے ساتھ پر بڑے دوستانہ مراسم ہوگئے تھے اء سے جب کبھی انہیں ملے بادلی آنیکا موقعہ ہوتا میرے ہاں قیام فرماتے اور بڑے اخلاص کے ساتھ تعلقات نبھاتے رہے۔فجزاء اللہ چند سال پہلے جب میں ابلیس کو اغوا کیا گیا تو سرحد کی حکومت نے خان قلی خان صاحب کو ان کی رہائی کیلئے رستہ صاف کرنے کی مہم پر بھیجا تھا حبکو انہوں نے بہت خوش اسلونی سے سرانجام دیا۔گو آخری مرحلہ پر یہ معاملہ خان بہادر مغل بانه خان صاحب کے ہاتھوں سے پایا۔جب خان قلی خان صاحب نے یہ سرگذشت مجھے سنائی تو لی کے دریافت کیا خان بہادر صاحب اس کامیابی پر حکومت کی طرف سے کچھ خوشنودی کا اظہار بھی ہوا۔فرمایا خودرو را صاحب مغل بانه خان کو تو بیت النعام و اکرام مل اور تمہیں صرف دو مربعہ زمین اور وہ تمغہ جو عورتوں کو ملتا ہے۔میں نے پوچھا وہ کیا کیا تجمعہ قبر مسند یا کچھ ایسی بات۔مقدمہ سازش ویلی کا انجام دائیہ نے دلی پہنچ کر مجھے بلایا اور دوران گفتگو فرمایا مد مدرسان ش کے متعلق اب ہم نے تمہارے مشورے کیمطابی ٹریول ختم کر کے ملزمان کے خلاف عام عدالتوں میں چالان دائمہ کردیے ہیں میں نے عرض کیا اگر شروع میں میں طریق اختیار کیا جاتا بہت سارو پہ اور وقفت بچ جاتا۔گول میز کانفرنسوں کے نتیجے میں ہندوستان میں آئینی اصلاحات کی تجاویز کمتعلق حکومت برطانیہ کا قرطاس ابیضی اور انپر غور کرنیکے لئے پالمین کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی۔گول میز کانفرنسوں کے نتیجے میں حکومت برطانیہ نے اپنی تجاویز ایک قرطاس ابیض کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی ایک مشترکہ کمیٹی ان پر غور کرنے کیلئے قائم ہوئی اس کمیٹی کے صدر لارڈ سلمنگ تھے واعد میں وائسرائے ہند ہوئے اراکین میں تین سابق دائر کیے ، لارڈ ٹار ڈنگ، لارڈ ریڈنگ اور لار ڈارون شامل تھے۔ان کے علاوہ مار کوئین آف سالسبری آرچ بشپ آن کنٹریری، سر آسٹن چیر مین ، لارڈ ڈار بی، لارڈن ٹین اور پارلیمنٹ کے اور بہت سے نمائیندے بھی اراکین میں تھے۔شہادت کے مرحلےپر کمیٹی کے کام میں انت کرنے کیلئے ہندستان سے ایک وفد کمیٹی کے ساتھ شال کیا گیا۔میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔مشترکہ کمیٹی کے اجلاس تا ء کے موسم بہار میں شروع ہوئے۔لندن پہنچنے پر میں حسب معمول نہ بائی کن سر آغا خان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔وہ کچھ آشفتہ نظر آئے۔ایک تار مجھے دیا اور فرمایا اسے پڑھو وہ تار ان کے نام ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب کی طرف سے تھا اس کا مضمون یہ تھا۔مبارکبادہ مجھے آل پارٹیز مسلم کا نفر کے آئیندہ اجلاس کیلئے صدر منتخب کیا گیا ہے۔اب مسلمانوں میں میری حیثیت رہی ہے جو گاندھی جی کی مندوں میں ہے۔