تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 318 of 736

تحدیث نعمت — Page 318

۳۱۸ ان دونوں صورتوں کے درمیان انتخاب ہے تو شکل میکن کرنا ہی ہوگا میں بات ختم کر یوکا تو سر پر تم اس ٹھاکر داس نے میری طرف ٹھیک کر کہا۔تم نے مالیات کا مطالعہ کہاں گیا تھا ؟ میں نے کہا میں تو تالیات کے متعلق کچھ بھی نہیں جاتا اور یہ بات تو مالیات کے متعلق ہے بھی نہیں عام فہم کی بات ہے کہ ایک ملک کی حکومت آزاد کیسے کہلاسکتی ہے اگر اس کے مانیا پر کسی اور حکومت کا اختیار ہے۔پنڈت نانک پچند صاحب تیسری گول میز کا فرانس میں پنجاب کے مندر نمائندے پنڈت نانک چند صاحب تھے۔کا وباتی خود اختیار کا مسلہ زیر بحث آیاتو انہوں نے بے ہوش سے بحث کی کہ دوسرے صوبات میں تو قانون اور انا کا مائی کو اختیاری ہونا چائے کی پنجاب میں ان کا ایمان کی ہے اورسلمان آبادی کا نہایت غیر ذمہ دار عنصر ہیں مسلمانوں کی غیر ذمہ داری کی مثال یہ دی کہ پنجاب کونسل میں ان کی پارہ ٹی کے ایک کین ایسے تھے جو سات بار قتل کے الزام میں نہ یہ حراست آچکے تھے۔میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ صاحب ہندو تھے یا مسلمانی رمایا کچھ بھی ہو وہ صاحب آپ کی پارٹی میں شامل تھے !! ان کا اشارہ یونیسٹ پارٹی کے ایک ہندو رکن کی طرف تھا۔جو بار یا قتل کے الزام میں ماخوذ ہوئے تھے لیکن ہر بارہ بری قرار دیئے گئے۔یہ قصہ ء کے پہلے کا تھا اس کی نسبت میرا علم بھی سماعی تھا۔میری ان صاحب کے ساتھ ذاتی ملاقات نہیں تھی ، پنڈت صاحب کی بے ربط اور غر متعلق لکن نهایت پوشیلی تقریر سے کراراکین اکتاگئے تھے اور سپر مین ادارہ ڈنکی) کا مدیر تو ان کے چہرے سے ظاہر ہو رہاتھا دوسرے یہ تقریر دلپذیہ اسقدر طویل ہوگئی تھی کہ کانفرنس کا اعلاس معمول سے اہم منٹ لمبا ہو گیا۔جب اسجلاس ختم ہوا اور ہم سب نیچے اتر کر اپنے کوٹے پھر یہاں سنبھالنے لگے پنڈت صاحب نے مجھ سے کہا نظر اللہ تم کل میری تقریر کا جواب دو گے ؟ میں نے کانہیں جناب کہنے لگے۔نہیں نہیں ، کیوں نہیں ؟ " میں نے کہا میں آپ کی تقریہ کا جواب دینے لگ جاؤں تو مجھ میں اور آپ میں کیا فرق رہ جائیگا ؟ " ہمارے قریب دو تین انگریزیہ نمائندے بھی اپنے کو سنبھال رہے تھے وہ بے اختیار نہیں پڑے؟ دوسرے دن میں نے مسئلہ نہ یہ محبت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تقریر کے آخر میں صرف اتنا کہا۔کتاب عالی ! کل ایک تقریر کے دوران میں یہ نہایت غیر معمولی سخیال ظاہر کیا گیا تھا کہ پنجاب میں قانون اور امن عامہ کا محکمہ دنیاء کے سپرد نہیں ہونا چاہیئے۔اس کے متعلق میں اتناہی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسی امتیاز کیاگیا تو ہماری یہ تمام محنت تو ہم برسوں سے کر رہے ہیں بالکل اکارت جائے گی میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ لارڈ سنکی نے بڑے جوش سے فرمایا۔مجھے کلی اتفاق ہے ؟" تیسری گول میز کانفرنس کے اختتام پر ڈالر ڈسکی نے بعض ہندوستانی مندوبین کے متعلق چند تعریفی کلمات کہے مسلم وفد میں سے ہزہائی نس آغا خان کا تو حق ہی تھا۔لیکن مجھے بھی انہوں نے یہ امتیاز بخشا۔کچھ عرصہ بعد میں لندن میں تھا پارلیمینٹ کے ایک کمرے میں میری تقریر اسلام کے اقتصادی نظام پر ہوئی۔لارڈ سکی