تحدیث نعمت — Page 292
آگرینگا۔بیل گاڑی کا ایک میل وہیں مرگیا۔کار کا RADIATOR بالکل شکستہ اور بے کار ہو گیا۔میرے چہرے کے بائیں طرف شدید زخم آیا ایک لحظے کیلئے تو مجھے یوں احساس ہوا ایسے زندگی کا چراغ گل ہوگیاہے لیکن اللہ تعالی کی کمال دره نوانی سے دماغ نے پھر کام کرنا شروع کر دیا میرے اوپر اور نچے کے سامنے کے دانت نکل گئے اوپر کا ہونٹ درمیان کئے گی بائیں آنکھ کے گرد کی ہڈی بائی کونے سے ٹوٹ گئی اور جلد دو تین اپنے تک کٹ گئی۔سید عبدالکریم صاحب کو فضل اللہ کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔کار البتہ بے کار ہوگئی تھی۔جالندھر کی طرف سے ایک خالی لاندی آرمی تھی اسے بھیا کہ ڈرائیور کو مینامند کیا گیا کہ مجھے جالندھر کے سول ہسپتال میں پہنچا دے۔ہسپتال پہنچنے تک خون جاری رہتا لیکن میں فضل اللہ پورے ہوش میں رہا۔ہسپتال پہنچنے پر پر لیا گیالیکن میں نے کہا اگر کوئی اس مرا ہاتھ پکڑ کر راستہ بتاتے جائیں تومیں پیدل عمل جراحی کے کمرے تک پہنچ سکتا ہوں۔عمل جراحی کی میز پہ بیٹھ کر مں نے ورتار لکھوائے۔ایک چیف کمشنر و علی کے نام کہ مجھے دو ہفتے کی رخصت دیجائے۔دوسرائر یونل کے صدر کے نام کر دینے تک حاضر عدالت نہیں ہو سکوں گا۔جالندھر میں ان دنوں کنور دلیپ سنگھ صاحب حج ہائی کورٹ کے بھائی کیپٹن شمیر سنگھ آئی۔ایم ایس سول سرجن تھے لیکن وہ نئے سال کی گھوڑ ورڈ دیکھنے کا ہو تشریف لے گئے ہوئے تھے۔اسسٹنٹ سرجن ڈاکر لو وصاحب تھے انہوں نے فرمایا چہرے پر زخم پھیلا ہوا ہے میں مناسب مقامات پہ ٹانکے لگا کر پٹی کر دیتا ہوں دو دن میں تم کا ہورہ کا سفر بر داشت کرنے کے قابل ہو جاؤ گے وہاں مناسب عمل جراحی کر دیا جائیگا میں نے کہا آپ مجھے کلورو فارم دیر نہ غم کو اچھی طرح صاف کریں اور جو عمل ضروری ہے سب اسی قویت مکمل کر دیں۔انہوں نے کہا میں یہ ذمہ داری لینے سے ڈرتا ہوں۔میں نے عرض کیا ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں آپ کی رائے میں جو عمل ضروری ہے آپ اس کی تکمیل کریں۔وہ رضامند ہوگئے اور میں نے دعا کرتے ہوئے کلوروفارم سونگھنا شروع کر دیا۔شیخ غلام دستگیر صاحب کا مکان ہسپتال کے بالکل قریب تھامیں نے ان کی خدمت میں پیغام بھجواد باک میں ہسپتال میں اس حالت میں ہوں۔چھٹی کا دن تھاوہ مستی تشریف لے گئے ہوئے تھے انہیں وہاں پیغام پہنچا دیا گیادہ جالندھر تشریف نے آئے اور فورا ایک عمدہ برا در ضروری سامان ہسپتال بھجوا دیا۔جب اپریشن کے بعد مجھے ہوش آیا تو میرے کرے میں میرے پلنگ کے پاس تشریف فرما تھے۔ضربات میرے چہرے پر تھیں اعصاب پر بہت اللہ تھا۔شیخ صاحب کی موجودگی اور ان کی تو جہ میرے لئے بہت تسکین اور اطمینان کا موجب ہوئی۔شیخ صاحب جالندھر میں چوٹی کے دیوانی وکیل تھے۔ور بلدیہ کے صدر بھی تھے۔انہوں نے پھڑ کا والی موٹر گاڑی حادثے کے مقام پربھیج دی تومیری کار کوکھینچ لائی اور سید عبدالکریم صاحب کو بھی لے آئی۔سید صاحب میرے کمرے میں داخل ہوئے تو اسلام علیکم کہہ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور رونے لگے۔میں نے انہیں تسلی دی کہ ضربات کوئی ایسی شدید نہیں اور حادثے کی ذمہ داری ان پر نہیں پیشیخ غلام دستگیر صاحب نے میرے آرام کا سامان کرنے اور میرے ساتھ عملی مدیر دی کے اظہارہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔پچیس سال قبل گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی ان کا سلوک میں ساتھ بہت مشفقانہ تھا۔بعدمی بھی جب کبھی مجھے جالندھر جانے کا اتفاق ہوتا بہت