تحدیث نعمت — Page 290
۲۹۰ قدامت پسند حزب TOARIES نے ان کی قیادت میں کام کرنا منظور کرلیا۔وزارت میں جو تبدیلیاں ہو گئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مسٹر و جوڈ بن کی جگہ سرسیموئل مور وزیر مند مقرر ہوئے۔ان کی خواہش بھی کر گول میز کانفرنس کی کاروائی کا جلد کی میتی لیکن فرقه داران نیابت کاملی برقدم پر رکاوٹ پیدا کرتا۔آخر کار با کی مفاہمت نہ سکتے کی وجہ سے اس امر کا فیصلہ برطانوی حکومت نے اپنے ذمے لے لیا اور دوسری گول میز کانفرنس کے اختتام کے بعد سلمانوں کو بر طانوی حکومت کے فیصلے کا انتظار رہنے لگا۔مارچ اء میں لارڈ بلیز برگر نے ایک سنہری پلیٹ ہو HON BLE COMPANY OF COLDSMITHS کے زیر اہتمام تیارکی گئی تھی مری والدہ صاحبہ کو تحفتہ بھجوائی تھی اور بلیز ریگ اس کمپنی کے پائم وارون تھے اس پلیٹ پر یہ عبارت کندہ تھی:۔HOMAGE A DEVOTED From To INDIAN of ENGLAND Mother A DISTINGUISHED INDIAN Son FEBRUARY 31 ۱۹۳) جب میں اکتور را شاد میں دوسری گول میز کانفرنس میں شمولیت کیلئے لندن گیا تو والدہ صاحب نے ایک اسمانی قالین وایک میز جس پر میل کاری کا کام تھا یارڈ لیر ترک کیلئے بھجوائے۔جنہیں دیکھ کر دہ بہت خوش ہوئے اور والدہ صاحبہ کی مدت میں بڑے تپاک اور شکریے کا خط لکھا۔اس کے بعد وقتاً فوقتاً وہ اپنے اخلاص کے اظہار کے طور پر والدہ صاحبہ کی خدمت میں مختلف مخالف ارسال کرتے رہتے تھے برا ہار میں گول میز کانفرنس کے سلسلے میں میرے قیام لندن کے دوران میں مجھے کئی بار ان سے ملاقات کی مسرت حاصل ہوئی۔انہوں نے مجھے GOLDSMITHS COMPANY کے کورٹ ڈنہ میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔اس موقعہ پر علاوہ ایسی کمینوں کے صدیوں پرانے رسوم و رواج کے مظاہرے کے ان کے میتی با سونے اور جواہرات کے تاریخی نمونے دیکھ کر حیرت ہوئی۔ملکہ اہلیہ مقر اول کا طلائی آنجورہ ، شاہ جیمز اول کا شراب پینے کا سیٹ اور بیشمار ایسی ہی دیگر اشیاء جن کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔جب مہمان رخصت ہوئے تو ہر مہمان کو رخصت ہوتے وقت دروازے پر ایک خاصا ورزنی تکس دیا گیا جس میں مختلف اقسام کے چاکلیٹ بڑے قرینے سے سجائے ہوے تھے۔یہ مکس میں نے دوست ون ایمیلی بینی رح کی خدمت میں پیش کر دیا۔مسلم لیگ کی صدارت اس پر اس دور میںمسلم لیگ کاسالانہ اجلاس تھا۔لیگ کونسل کی طرف سے مجھے صدارت کی دعوت دی گئی اور میں نے قبول کرلی۔ان دونوں مسلم لیگ کے علاوہ مسلمانوں کی ایک اور سیاسی پا سٹی آل پارٹیز مسلم کانفرنس بھی تھی۔لیکن دوسیاسی پارٹیاں مسلم قوم کیلئے ضعف کا باعث تھیں۔ادھر کا نگر کی مسلمانوں