تحدیث نعمت — Page 247
سوال کیا۔پھر وہی ہوا۔اور ساتھ ہی پریذیڈنٹ صاحب نے کہا تمہارے بار بار سوالات کی وجہ سے یوں ہوا ہے۔اور بار بار کے سوالات کے لئے ایک ایسا لفظ استعمال کیا جسے میں نے نا مناسب اور نانت میں خیال کیا۔میں نے انہیں ڈانٹا اور باد لایا کہ حج اور وکلاء ایک ہی نظام کی کڑیاں ہیں اور دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور اصرار کیا کہ وہ اپنا لفظ واپس لیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی نیت کسی قسم کی تحقیر کی ہیں تھی ہیں اس وقت ہوش میں تھا میں نے کہا یہ لفظ یقینا تحقیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اور اگر آپ کو یہ معلوم نہ تھا تو آپ کو اس لفظ کے استعمال سے پر ہیز لازم تھا۔انہوں نے ٹریبیونل کے دوسرے ارکان جو سے دریافت کیا کہ کیا میں نے ناواجب لفظ استعمال کیا ہے ؟ دوسرے اراکین مسٹر مورٹن اور مسٹر والی پناه دونوں بیرسٹر تھے۔دونوں نے کہا یہ لفظ نامناسب تھا۔مسٹر مورٹن نے تو حیرت کے لہجے میں میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔تم نے یہ لفظ اس سے کہا ؟ اس پر پریڈنٹ صاحب نے تاسف کا اظہار کیا اور کہا مجھے ہاں لفظ کے ایسے معنوں میں استعمال کئے جانے کا علم نہیں تھا۔اس کے بعد انہوں نے میاں عبدالرشید صاحب کو توجہ دلائی کہ ایک امرسیہ ان کی طرف سے ضابطے کے مطابق عمل نہیں ہوا۔اور ساتھی مجھے کہا۔تم نے صحیح طریق اختیارہ کیا ہے۔میں نے کہا۔پھر مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں۔آخر میں میں نے ان کے ریڈر سے کوئی سوال کیا اہوں مسل ریڈر سے لیکہ خود نہایت نرمی کے لہجہ میں مجھے جواب دیا۔میں شکریہ ادا کر کے رخصت ہوا۔اس دن جب ٹریبیونل کا اجلاس یہ خواست ہوا تو مسٹر رالی بارہ روم میں آئے اور جو دو کلا موجود تھے ان سے کہا۔بار میں سے جو بھی ٹریبیونل کے سامنے پیش ہوا ہے پریذیڈنٹ نے اس کے ساتھ درشت کلامی کی ہے اور وہ سب خاموشی سے برداشت کرتے رہے ہیں۔آج اس نے ظفراللہ سے ایک لفظ کہ دیا جو اسے ناگوار ہوا اور اس نے اسے فوراً ڈانٹ دیا اور آخر اسے اظہار تاسف کرتے ہی بنی۔اس نے آج تم سب کی لاج نہ کھلی ٹرمینوئل کا کام ختم ہوا تو مسٹر ایڈمین نے ہائی کورٹ میں بطور جج کام شروع کر دیا۔مجھے انتظار تھا کہ دیکھیں یہاں ان کا رویہ کیا انتہا ہے۔لیکن یہاں انہوں نے پہلے دن سے ہی میرے ساتھ پوری شرافت کا بہ نا درد رکھا اور ہمیشہ خوش خلقی سے پیش آتے رہے۔میں نے بھی ٹریبیونل والے واقعہ کو دل سے نکال دیا۔وہ بڑے قابل تھے اور کام تیزی سے کرتے تھے۔آہستہ پہنے والے وکیلوں کو بعض دفعہ وقت کاسامنا ہوتا تھا۔لندن میں ایک بار ہم کھانے پر اکٹھے تھے مجھ سے دریافت کیا تم شراب کبھی نہیں پیتے؟ میں نے کہا کبھی نہیں۔کہنے لگے لیکن قرآن نے شراب قطعا حرام تو نہیں کی۔میں نے کہا آپ بطور حج قانونی معاملات میں کوئی فیصلہ صادر کریں تو اس کی پابندی قانون لازم فرار دنیا لیکن قرآن کریم کی تفسیر کرنے بیٹھ جائیں تو وہ قابل قبول نہیں۔میں عالم نہیں ہوئی لیکن قرآن کریم کو آپ کی نسبت بہتر سمجھتا ہوں۔قرآن کریم نے شراب کے استعمال کی قطعاً ممانعت کی ہے اور بڑے سخت الفاظ میں کی ہے ؟! ہے۔