تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 242 of 736

تحدیث نعمت — Page 242

۲۴۲ ادا کرتی رہی ہے اور اب بھی ادا کرنے کی ذمہ دار ہے۔عدالت ابتدائی تے قرایہ دیا کہ دیوان عدالت کو اختیار سماعت نہیں۔اور واقعات پر بھی مدعی مستوجب ادائیگی ہے۔ڈسٹرکٹ جج کی عدالت سے اس فیصلے کے خلاف مہنت صاحب کی اپیل خارج ہوئی۔ہائی کورٹ میں اپیل ثانی کی گئی وہ بھی خارج ہوئی۔مہنت صاحب نے لیٹر ز مینیٹ کے ما تخت اپیل کی۔لیٹرز پینٹ پہنے میں سینٹر ج بخشی ٹیک چند صاحب تھے۔اس مہنتے ہیں اس اپیل کی سماعنہ کی باری نہ آئی۔لیٹر نہ پینٹ بیچے جب پھر تشکیل ہوتا تو اس اپیل کی سماعت ہوتی۔لیکن دوسرے ہفتے میں ان پنج لیٹرز مینٹ اسیلوں میں سے جن کی باری نہیں آئی تھی صرف ایک یہ اپیل خلاف دستور سابق اس نئے بینچ کے اجلاس میں لکھاری گئی جس کے سینیٹر بچے بخشی ٹیک چند صاحب تھے۔بخشی ٹیک چند صاحب کے قاعدہ نمبر کے ماسخت مال کی تین عدالتوں اور دیوانی کی تین عدالتوں کی تجوینیہ کے خلاف اپیل منظور ہو کر قرار دیا گیا کہ عدالت ہائے دیوانی کو اختیار سماعت ہے اور ڈھیری حق بوھا" کی ادائیگی کی مستوجب نہیں۔سردار صاب کے مختار میرے پاس تشریف لائے کہ پریوی کونسل میں اپیل کی اجازت طلب کی جائے۔ہم نے اجازت طلب کی لیکن ہماری درخواست اسی بنا پر رد کر دی گئی کہ دو روپے سالانہ کا تو تنازعہ ہے اس لئے یہ تنانہ عہ پر لوری کونسل میں لے جانے کے لائق نہیں۔ہم نے پریوی کونسل میں درخواست بھیجوائی کہ عدالت تائے دیوانی کو اختیار سماعت ہی حاصل نہیں اور یہ اصولی سوالی ہے اس لئے اپیل کی اجازت خاص دیجائے پر لوری کونسل نے اجازت خواص عطا کی۔اپیل کی سماعت ہوئی۔پر یوری کو غسل نے قرانہ دیا کہ پنجاب ریونیو ایکٹ کی واضح دفعہ کے ماتحت ان امور میں انتیار سماعت صرف عدالت ہائے مال کو ہے۔عدالت ہائے دیوانی کو اختیار سماعت نہیں۔ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ ہو کر ڈھیری کا دعونی خارج ہوا۔بخشی ٹیک چند صاحب کے بھی کے عہدے پر سر فرانہ ہونے کے بعد میں نے پا ۸ سال ٹائی کورٹ میں پرکیٹیں کی محض اللہ کے فضل اور اس کی ذرہ نواندی سے مقدمات میں میری کامیابی کی شرح بہت بلند تھی۔خالی شد لیکن اس تمام عرصے میں بخشی صاحب کے اجلاس سے میرے حق میں صرف ایک فیصلہ ہوا۔اس کیس میں دونوں فریق اور دونوں طرف کے وکلاء مسلمان تھے۔میں رسپاڈنٹہ کی طرف سے وکیل تھا۔اور امر ز یہ تنازعہ العنہ امر واقعہ تھا۔جس میں عدالت ماتحت کے فیصلے میں اپیل ثانی میں دخل انداندی نہ ہو سکتی تھی۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس کیس پر جناب بخشی صاحب کی رائے میں ان کا قاعدہ نمبر ۳ عائد ہوتا ہو۔ابخشی صاحب کا رویہ جو اوپر بیان کیا گیا ہے استقدر ظاہر اور باہر تھا کہ محض ہندو وکلاء کیس کے فیصلے کے متعلق شرط باندھ کر بڑی بڑی فیس وصول کرتے تھے۔پودھری محمد اسمعیل صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیر اور ان کی اپیل اول ایک ترقیہ نہری الہا نی کی خرید کے متعلق ہائی کورٹ میں دائرہ تھی جو بخشی صاحب کے اجلاس کی فہرست f