تحدیث نعمت — Page 8
n خط آنے پر میں نے میں نے ارادہ کر لیا کہ ستمبر میں جب والد صاحب کے ہمراہ حاضر ہوں گا تو والد صاحب کے فرمانے والا حاضریوں والدصاحب کےفرمانے پر میں بیعت کر لوں گا۔لیکن قادیان پہنچنے کے بعد نصف ستمبر گزر گیا اور والد صاحب نے مجھے اس بارے میں کوئی ارشاد نہ کیا۔چنانچہ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ میں خود ہی حضرت مولوی صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں بیعت کر لیتا ہوں۔حضور علیہ السلام صبح سیر کیلئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔اس وقت بھی خدام کو حضور کی خدمت میں حاضر رہنے اور حضور کے کلمات طیبہ سے مستفید ہونے کا موقعہ میسر آجاتا تھا۔پھر ظہر ادھر کی نمازوں کے بعد بھی حضور کچھ وقت کیلئے مسجد مبارک میں تشریف فرما نہ ہتے تھے۔اس وقت بیعت بھی ہو جاتی تھی۔میں نے ار ستمبر الہ کو بعد نمانہ ظہر مسجد مبارک میں حضورہ کی خدمت میں گذارش کی کہ میری بیعت قبول فرمائی جائے۔حضور نے اجازت بخشی اور میں حضور کے دست مبارک پر بیعت ہوا۔فالح من له على الالت حضرت مولوی نورالدین صاحب کے بیشمار احسانات میں سے جن کا یہ عاجزر مورد ہوا یہ ایک بہت بڑا احان تھا کہ آپ نے والد صاحب کو یہ تحریک فرمائی اور اس سے فائدہ اٹھا کر میں نے حضور علیہ اسلام کے دست مبارک مجھے پر سبعیت ہونے کی سعادت حاصل کی۔کان ذالک فضل الله على فسبحان الله والحمد لله۔ان ایام میں میرے ایک ہم مدرسہ دوست نے مجھے کہ رکھا تھا کہ اگر تم نے سلسلہ احمدیہ میں بیعت کی تو میرا تمہارا دوستانہ ختم ہو جائے گا۔حضور کی بیعت کرنے کے بعد میں نے پہلا کام یہ کیا کہ انہیں خط لکھا کہ آج میں نے حضور علیہ اسلام کے دست مبارک پر بعیت کرتی ہے۔لہذا آپ کے کہنے کے مطابق اب ہمارا دوستان ختم ہو گیا۔کچھ عرصہ کے بعد خود انہوں نے بھی بیعت کر لی۔لیکن عملاً جماعت کے ساتھ منسلک نہ ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مئی نشانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام لاہور تشریف لائے اور کی وفات کا سانحہ احمدیہ بلڈنگس میں قیام فرمایا۔کچھ عرصہ پہلے سے حضور علیہ السلام کے میں الہامات میں متواتر آپ کی وفات کی طرف اشارہ ہو رہا تھا۔لیکن طبعا آپ کے خدام میں سے کسی کا ذہن اس دردناک تصویر کا متحمل نہ ہوتا تھا کہ حضور کے وصال کا وقت قریب ہے یعنی کہ اگر جیل مما لرحيل والموت قريب جیسے چونکا دینے والے الفاظ سے بھی اکثر زنان نے میں مراد اخذ کی کہ اس میں ہر انسان کو انجام سے تنبہ کرنا مقصود ہے۔حضور نے بھی کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہ فرمایا اور متواتر اعلائے کلمۃ اللہ کی سعی میں بشاشت اور اطمینان کے ساتھ مصروف رہے۔گورنمنٹ کالج میں ہم پانچ کچھ احمدی طالب علم تھے۔شیخ محمد تیمور صاحب ، چودھری فتح محمد سیال صاحب ، چودھری ضیاء الدین صاحب، میرے استاد نہا دے عبد الحمید بٹ صاحب وغیرہ ہم اور ہم سب بالالتزام حضور علیہ السلام کی قیام گاہ پر حاضر ہوتے رہتے تھے۔۲۶ رمٹی کو میں حسب معمول دو پر کا کھانا اول وقت میں ہی کھا کر لیٹ گیا تھا۔دفعتہ شیخ تیمور صاحب نے میرا پاؤں ہلایا اور پریشانی کی "