تحدیث نعمت — Page 238
۳۳۸ اہ کے اوائل میں شروع ہوا۔چودھری سرشہاب الدین صاحب صدر مجلس تھے مے ی فضل حسین صاحب تائی مجلس تھے۔اگر چہ وزارت چھوڑ کر گورنہ کی مجلس عاملہ کے رکن ہو چکے تھے۔لیکن بارتور یونینسٹ پارٹی کے لیڈر تھے جیسے وزارت کے زمانے میں تھے۔کونسل کے اجلاس شروع ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ جود مصری سرشہاب الدین صاحب نے ایک دن مجھ سے کہا میاں صاحب کہتے ہیں ظفر اللہ خاں کا نہ مین تو صاف ہے اور کام کی طرف توجہ بھی کرتا ہے۔لیکن کبھی کبھی اپنی مرضی چلاتا ہے۔میں نے کہا میں ایک وقت محسوس کرتا ہوں۔ہر چند کہ میںہر معاملے میں میاں صاحب کے منشاء کے مطابق قدم اٹھانا چاہتا ہوں لیکن بعض کامنت۔اوقات ان کا منشاء معلوم نہ ہونے کی وجہ سے تفادت بھی ہو جاتا ہے۔میاں صاحب بہت کم اپنے منشاء کا اظہار فرماتے ہیں۔اکثر امور میں ان کے منشاء کے متعلق قیاس کرنا پڑتا ہے۔مجھے ان امور کا تجربہ نہیں اسلئے قیاس غلط بھی ہو سکتا ہے۔میاں صاحب لیڈر ہیں۔ان کا حق ہے کہ جو فیصلہ وہ فرمائیں اس کی تعمیل ہو لیکن فیصلے کا علم ہونا ضروری ہے۔میں اس سے نہ یادہ کا خواہاں نہیں کہ اگر کسی معاملے میں میں کچھ گذارش کرنا چاہوں تو وہ سن لیں۔اس کے بعد اگر ان کا فیصلہ میری رائے کے خلاف بھی ہو تو میری طرف سے تعمیل میں انشاء اللہ کو تا ہی نہ ہوگی۔معلوم ہوتا ہے میری یہ گزارش چودھری صاحب نے میاں صاحب کی خدمت میں پہنچا دی۔کچھ دن بعد میاں صاحب نے مجھے اپنے مکان پہ پانچ بجے صبح طلب فرمایا۔جاڑے کے دن تھے پانچ بجے ابھی خاصا اندھیر تھا میں حاضر ہو گیا۔میاں صاحب پالنگ میں بیٹھے ہوئے کام میں مصردن تھے۔بغیر کسی تمہید کے فرمایا میں آج دوسرے پہر جا رہا ہوں۔پہلے گورنہ صاحب سے ملاقات ہے۔وہیں سے روانہ ہو جاؤں گا۔گورنہ صاحب نے سر گندے سنگھ صاحب کو بھی بلایا ہے۔وہ فلاں معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں گے اگر بات سمجھ گئی تو فبہا۔میں فال صاحب کو ٹیلیفون پر اطلاع کر دوں گا۔وہ تمہیں بتادیں گے۔اگر تصفیہ نہ ہوا تو تماس تو نہ کی اور ایک پرچے پر اپنے دستخطی تحریر شدہ تو یہ دی) درس نقلیں کروا کر اور پارٹی کے دس اراکین سے دستخط کر دار مجلس کے دفتر میں بھیجوا دنیا۔اس کے بعد در ایک اور امورہ کی وضاحت فرمائی۔دو ایک امور کے متعلق ہدایات فرمائیں اور مجھے خصیت کر دیا۔میں نے سمجھ لیا کہ تو گذارش میں نے چودھری صاحب کی خدمت میں کی معنی وہ میاں صاحب نے منظور فرمالی میری سیاسی تربیت کا دورہ ایک آزمودہ کا رسیاستدان کی نگرانی میں شروع ہو گیا۔مسٹر جسٹس بخشی ٹیک چند اسلام کے انتخاب میں بخشی ٹیک چند صاحب بھی پنجاب کو نسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔بخشی صاحب نہایت قابل قانون دان تھے اور اس وقت لاہور ہائی کورٹ بار میں چھوٹی کے وکیل تھے عام سیاسی سرگرمیوں میں انہوں نے کبھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ان کی عدالتی مصرو فیات کسی اور کام کے لئے انہیں فرصت بھی نہیں دیتی تھیں۔ان کا کونسل میں آنا ایک معمہ تھا جس کا حمل جلد ہی معلوم ہو گیا۔شاہ