تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 227 of 736

تحدیث نعمت — Page 227

بحث ہوئی اور عدالت نے یہ قرار دیتے ہوئے کہ اب کوئی نعامی باقی نہیں رہی اپیل خانہ ج کر دی۔پچند ماہ بعد ایک دن گرمی کی شدت کے موسم میں عدالت ہائی کورٹ میں بجلی کی درد بند ہوگئی۔میں اس وقت مسٹر جسٹس آغا سید کے اجلاس میں پیش تھا۔روشنی اور سیکھے بند ہو گئے۔بخس کی ٹیٹوں میں سے ہوا گزارنے والی مشین بھی بند ہوگئی اور شدید حیس محسوس ہونے لگا۔مسٹر جسٹس آغا حیدر لحیم شحیم بھاری بھر کم سپہلوان تھے۔چند منٹوں میں بچپن ہو گئے۔میری طرف مخاطب ہو کہ فرمایا یہ بھی کوئی عدالت ہے ؟ عمارت ایسی ہے کہ گرمیوں میں شدید گرم اور سردیوں میں سخت سردیاں کام کیسے ہو اور یہاں انسان بھی کیا ہوتا ہے۔تمہیں یاد ہے وہ عبداللہ کا کیس اس میں کیا ہوا تھا۔میں ان کے آخری فقرہ کو سنکر ششدر رہ گیا۔ان کی واضع مراد تھی کہ عبد اللہ کے کیس میں الفنان نہیں ہوا تھا یا اسے نائی پھانسی دیدی گئی۔لیکن باوجود اس احساس کے کہ ان بچ صالون نے نہ صرف اس فیصلے میں شرکت کی تھی بلکہ پھانسی کے وارنٹ پر دستخط بھی کئے تھے ! اگر انہیں چیف جٹس کے ساتھ اتفاق نہیں تھا تو اپنا اختلافی فیصلہ لکھتے اس صورت میں اپیل کی سماعت کسی تمیرے حج کی عدالت میں ہوتی اور آخری فیصلے کی ذمہ داری اس پر ہوئی۔لیکن انہیں چیف جسٹس سے اختلاف کرنے کی ہدائت نہ ہوئی اور اپنے ضمیر کا خون کمرنا گھرا برا ہو گیا۔پنجاب کونسل کے انتخاب میں نشہ کے اگست میں والد صاحب ڈسکہ میں تشریف فرما تھے کہ حصہ لینے کی تیاری ان کی طبیعت پھر نا سا نہ ہو گئی۔اس سال بھی مجالس قانون سانہ کے انتخابات ہونے والے تھے۔19ء کے انتخابات میں چودھری سرشہاب الدین صاحب ضلع سیالکوٹ کے حلقے سے چود ھر جہان خاں صاحب گورایہ کے مقابلے میں پنجاب کو غسل کے رکن منتخب ہوئے تھے اور بعد میں کونسل کی صدارت پر فائمہ ہوئے تھے۔وہ میں انکی خواہش تھی کہ وہ ضلع سیالکوٹ سے بھی امیدوارہ ہوں اور ضلع گورداسپور سے بھی۔اور دونوں حلقوں میں کامیاب ہو جانے کی صورت میں ایک نشست خالی کر دیں۔اس سلسلے میں انہوں نے پھر حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں عریضیہ ارسال کیا اس میں علاوہ دیگر امور کے یہ بھی ذکر کیا کہ ظفر اللہ خاں کو کچھ نہ کچھ فائدہ مجھ سے پہنچتا رہتا ہے۔حضور نے - خاک از کو قادیان طلب فرمایا۔حاضر خدمت ہونے پر چودھری صاحب کا غریضہ پڑھنے کے لئے دیا اور دریافت فرمایا که اگر چودھری صاحب تم سے یہ نجیدہ خاطر ہوئی تو تم کس قدر مالی فائدے سے محروم ہو جاؤ گے خاک ارنے عرض کیا کہ انڈین کینز کے دفتر سے جو کام بھیجا جاتا ہے اس سے چند سو روپے ماہوار کی آمد ہواتی ہے۔لیکن رزق تو اللہ تعالیٰ دنیا ہے۔پچودھری صاحب ہمیشہ ناکارہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہے ہیں اس لئے خاک ران کا ممنون ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاک ران کا