تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 226 of 736

تحدیث نعمت — Page 226

کی سماعت وہی پہنچ کرتا تو دونوں کو بھی قرار دیا جاتا۔وجہ قتل یہ بیان کی گئی تھی کہ مقتولین کی شادی سے پہلے مقتولہ کا رشتہ اسپلانٹ کے لئے طلب کیا گیا تھا۔لیکن مقتولہ کے والدین نے الکانہ کر دیا تھا اور اس کا رشتہ مقتول کے ساتھ کر دیا تھا اس رینج سے ملزمان نے دونوں میاں بیوی کو قتل کر دیا۔اگر یہی وجہ جرم کے پس پردہ سختی تو قیاس غالب ہے کہ اپسیلانٹ بھی اس فعل میں شامل تھا۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ قتل اکیلے اسپلانٹ نے ہی کیا ہوا در تریب دونوں ماخو نہ ہو گئے تو باپ نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کی خاطر اقبال جرم کر لیا ہو۔اللہ تعالے نے جوارحم الراحمین ہے یہ بندر بہ قبول فرماتے ہوئے بیٹے کو رہائی دلائی۔یہ بھی تو ظا ہر محض اتفاق ہی تھا کہ اپیل کی سماعت کے دن سر شادی لال اجلاس میں شامل نہ ہو سکے۔اپیل کی سماعت اس دن سے پہلے یا اس دن کے بعد ہوتی تو سر شادی لال اسملاس میں موجود ہوتے اور پہل نامنظور ہو جاتی۔اس واقعہ کے ایک سال بعد سر شادی لال اور مسٹر جیٹس آغا حیدر کے اجلاس میں ایک اپیل کی سماعت ہوئی جس میں عبداللہ نامی اپیلانٹ کو سیشن کی عدالت سے پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔چندسال قبل ضلع فیروز پورہ کے ایک گاڑی میں ایک نئے کو قتل کر دیا گیا تھا۔تین اشخاص پر شبہ ہوا ان میں سے عبداللہ تو مضرور ہو گیا اور باقی دو گرفتار ہوگئے۔کیس سیشن سپرد ہوا سیشن کی عدالت میں پیشی سے پہلے دونوں ملزمان میں سے ایک مرکبیا سیشن کی عدالت میں استفادے کی طرف سے تین چشم دید گواہ پیش ہوئے سیشن بج صاحت نے ان کی شہادت کو ناقابل اعتبار قرار دیکر رد کر دیا۔اور ملزم کو بری کر دیا۔کچھ سال بعد عبدالله نگیری حال ساہیوال کے ضلع میں گرفتار ہوا جہاں اس نے مستقل سکونت اختیار کر لی ہوئی تھی۔اس پہ قدمہ پہلا سیشن کی عدالت میں استغاثے کی طرف سے وہی تین چشم دید گواہ پیش کئے گئے اور مزید شہادت یہ پیش کی گئی کہ ملزم نے اپنی نئی بجائے سکونت میں ایک سکھ سے کہا تھا کہ میں تو اپنے گاڑی سے ایک بنٹے کے قتل کی وجہ سے مغرور ہوں۔سیشن بی صاحب نے اپنے پیش رو کی طرح چشم دید شهادت تو رد کر دی لیکن ملزم کے بیان کردہ اقبال مجرم پہ الخصالہ کر کے ملزم کو مجرم قرار دیدیا اور پھانسی کی سزا کا حکم صادر کیا۔اپیلانٹ کی طرف سے میں نے اپنی بحث میں عدالت کو اقبال جرم کی شہادت کی کئی خامیوں کی طرف توجہ دلائی مین کی وجہ سے بیان کردہ اقبال جرم کی کہانی بالکل نا قابل اعتبار ٹھہرتی تھی۔سرکاری وکیل صاحب سے ہوا یا کچھ بن نہ آیا۔عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا۔چند دن بعد جب فیصلہ صادر ہوا تو بالکل خلاف توقع طارات نے مزید شہادت کے لئے وقعہ ۴۲۸م ضابطہ فوبعد انہی کے ماتحت کیس عدالت سیشن میں واپس کیا۔گویا عدالت نے یہ تو قسیم کیا کہ بوشہادت پیش کی جاچکی ہے اس کی بنا پر پلانٹ کے خلاف جرم ثابت نہیں ہونا اس صورت میں انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اپیل منظور ہو کر پلانٹ کو یہی کیا جاتا۔مگر عدالت نے میری بیان کردہ خامیوں کی طرف توجہ دلا کہ مزید شہادت قلمبند کئے جانے کا حکم صادر کیا۔جب کسی ہائی کورٹ میں واپس آیا تو پھر تفصیلی