تحدیث نعمت — Page 202
۲۰۲ کہ مقتول اپنے بیٹوں سمیٹ فتے اور جوش کی حالت میں ڈانگوں سے مسلح ہو کر ملزمان کے کنوئیں پر ان کی تادیب کیلئے گئے تھے۔ماہل کاٹ ڈالی تھی اور حملے میں ابتداء کی تھی۔اگر زیا دتی ملزمان کی طرف سے ہوتی تو بڑے میاں انہیں آسانی سے معاف نہ کرتے نہ پولیس کو واپس کرتے۔چونکہ ملزمان کے موقف کی تائید شہادت استغاثہ سے ہی ہو جاتی تھی ہم نے کوئی شہادت صفائی پیش نہ کی اور اس کے نتیجے میں محبت میں اول تقریر سمہ کاری وکیل صاحب کی ہوئی اور جوابی نظریہ میری ہوئی۔اس طریق سے حرف آخر کا فائدہ ہمیں حاصل ہوا۔اگست کا مہینہ تھا مجھے لاہور جانے کی جلدی بھی تھی۔فیصلے کے انتظار میںمیں سیالکوٹ بھر گیا۔شیخ اعجاز احمد صاحب ان دنوں سیالکو میں پریکٹس کرتے تھے۔میں ان کے ہاں مہمان تھا۔میں نے خواب دیکھا کہ سیشن بیج صاحب میں اور دھوتی پہنے پلنگ پر اوندھے پڑے ہوئے بے چینی کی حالت میں کراہ رہے ہیں۔میں نے شیخ صاحب کو خواب سنایا اور کہا تغییر واضح ہے کہ جمع صاحب کا ذہن الجھن میں ہے خدا کرے اسم بامسمی ثابت ہوں۔پنجابی میں منا سے مراد نین کچھ تھائی لی جاتی ہے، آٹھ ملزمان میں سے کچھ کو بہ می کردیں خواہ دو کوستی خود حفاظتی کی نہ یادتی میں چند سال قید کی سزا دیدیں۔فیصلہ سنائے جانے میں کچھ دیر ہوگئی۔اتفاق سے جج صاحب کے ریڈر صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے دریافت کیا فیصلے کی کب تک توقع کی جائے۔انہوں نے کہا صاحب ابھی کچھ نہیں کہ سکتے تین با نرمج صاحب نے فیصلہ لکھوایا ہے لیکن ابھی ان کا اطمینان نہیں ہوا بہت پریشانی میں ہیں۔لکھواتے ہیں پھر بدل دیتے ہیں۔میں نے شیخ صاحب سے کہا حج صاحب کی تو وہی کیفیت معلوم ہوتی ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی۔خدا خیر کرے۔آخر فیصلہ سنایا گیا۔کچھ ملزم بری ہوئے دو کو حق خود حفاظتی سے متجاونہ کرنے کی وجہ سے پانچ پانچ سال قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ملزمان ، ان کے متعلقین اور ماموں صاحب نے اسے کامیا بی شمار کیا اتفاق سے پچودھری محمد امین صاحب کے ساتھ اسی روز ملاقات ہوئی۔فرمایا لو تمہیں مزید فیس دلوانے کا انتظام کرتے ہیں۔میرے نزدیک فیصلہ بالکل غلط ہوا ہے۔میں حکومت کو تحریک کر رہا ہوں کہ اس فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے اپیل کی جائے۔میں نے یہ ذکر ماموں صاحب سے کیا ملزمان اور متوفی کے کہنے کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ملبہ ماں کا گاؤں اُونچا جہ دانہ زید کا سے دو تین میل کے فاصلے پر تھا۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ملزمان کو مزید مشکل کا سامنا ہو۔مجھ سے پوچھا کیا کوئی صورت ہو سکتی ہے کہ حکومت اپیل کرنے سے رک جائے میں نے کہا ایک صورت ہے کہ بین دو ملزمان کو سنیا ہوئی ہے ان کی طرف سے فورا ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی جائے۔چونکہ میں نہیں جانتا سمیشن جی نے اپنے فیصلے کی بنا کسی بات پر رکھی ہے۔لہذا فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی صحیح رائے قائم ہوسکتی ہے کہ اسہیل میں کامیابی کی کسی حد تک توقع کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر اپیل خارج بھی ہو جائے تو سیشن جج صاحب کے فیصلے پر نائی کورٹ کی تصدیق ہو جائے گی اور اگر حکومت بعد میں اپیل دائر بھی کریسے تو وہ اپیل بے نتیجہ ہوگی۔ہم اگر مبدا پیل۔۔ان