تحدیث نعمت — Page 186
لیکن میں علاوہ جونیر مونے کے پر کیس کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا۔وہ اچھی طرح سویت نہیں کہ کیا میری بجھائے کسی زیادہ تجربہ کار کھیل کا انتخاب بہتر نہ ہو گا۔مسٹر محمد حسن نے کہا تم سپر انہیں اعتماد ہے اور ساتھ ہی یہ بھی وقت ہے کہ زیادہ تجربہ کار شرکاء میں سے کوئی پیروی کے لئے تیار بھی نہیں۔سب ڈرتے ہیں کہ خود کسی پیسٹ میں نہ آجائیں۔تم جو مناسب نہیں چاہو انہیں منظور ہوگی۔میں نے کہا میں اپنے تعلقات کی وجہ سے فیس خود تجویزہ نہیں کرنا چاہتا جو وہ مناسب سمجھیں تجویز کر دیں مجھے عذر نہ ہوگا۔مسٹر مارکس صاحب نے خود ہی بات چیت کر کے نفیس تجوید کی اورمیں نے بانامل ان کی تجویز منظور کرلی۔عاله سرکشن لال صاحب لالہ ہرکشن لال صاحب سے میرا ذاتی تعارف نہ تھا۔ٹریبیونل کی کا نہ والی کے دوران میں انہیں قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملتانہ یا جس کے نتیجے میں میرے دل میں ان کی بڑی عزت ++ قائم ہوگئی باقی ملزمان کے ساتھ وہ بھی عدالت میں لائے جاتے۔خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتے جیب سے کتاب نکال کر بیٹھنا شروع کر دیتے۔عدالت کی کاروائی کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوتے نہ کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار کرتے۔کاروائی ختم ہونے پہ باقی ملزمان کے ساتھ اٹھ کہ پہلے جاتے۔ان کے چہرے پر کسی وقت بھی کوئی آثار پریشانی با ملال کے دیکھتے ہیں نہ آتے۔جہاں تک آپ کا تعلق تھا ایسے معلوم ہوتا کہ علالت کی تمام کاروائی ایک کھیل ہے جس میں انہیں قطعا گوئی کو بچسپی نہیں اور وہ اسے تضیع اوقات خیال کرتے ہیں۔ڈاکٹر کو کل چند نارنگ صاحب | ڈاکٹر کو کل چند نارنگ صاحب کو میں کسی قدر بجانتا تھا۔قابل وکیل تھے۔چیف کورٹ میں کسی حد تک ناموری حاصل کر چکے تھے۔آریہ سماج کے ایک ممتاز رکن شمالہ کئے جاتے تھے۔سیاست میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔لاہور کے فسادات میں ان کا ذکرہ اس رنگ میں آثار رہا تھا کہ ان ایام میں انہوں نے قیام امن میں سعی کی اور ایک دو مقامات پر شاید کسی پولیس افسر ہی کے گھوڑے پر سوار ہو کہ معلوس کو روکنے کی کوشش کی اور واپسی کا مشورہ دیا۔لیکن وہ بھی ملزمان میں شامل تھے۔عدالت کی کاروائی کے دوران میں طبعاً بہت دلچسپی لیتے رہے اور اپنی صفائی منفورد کرتے رہے۔ان کی جائزہ کوشش میں تھی کہ استغاثے کی شہادت سے ہی یہ امت ثابت کمی در کھائیں کہ ایام زیر بحث میں ان کی تمام تریسی پولیس اور حکام کے ساتھ قیام امن میں تعاون اور تائید کی تھی اور ان کا دامن ہر فتنم کی با غباند ار میفراند سرگرمیوں کے دیتے سے پاک رہا۔استغاثے اور عدالت کی تخریجہ زیادہ تنہ ان ملزمان کی طرف تھی جو باغیانہ سرگرمیوں کے سرغنہ گردانے گئے تھے۔سردار حبیب اللہ خان صاحب اور سید محسن شاہ صاحب کا ذکر کسی جلسے میں شرکت یا تعمیر کرنے